Wednesday, October 25, 2017

اس لئے اترے تھے کہ طالبان کو بھسم کر کے کابل وقندھار میں بیٹھ کر پاکستان کو نشانہ بنائیں گے

وہ بڑے طمطراق کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر محض اس لئے اترے تھے کہ طالبان کو بھسم کر کے کابل وقندھار میں بیٹھ کر پاکستان کو نشانہ بنائیں گے
۔
نیٹو فورسز اور امریکی کمانڈوز وحشیوں کی طرح افغانیوں کو بھون رہے تھے، ایسے میں ساری دنیا ڈری، سہمی اور دبکی بیٹھی تھی کہ اب افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر یہاں سے اسلام اور مجاہدین کا ملیا میٹ کر دیا جائے گا، ظلم و استبداد کا ہر گھٹیا طریقہ آزمایا گیا،
 افغان عورتوں کی منڈیاں تک لگا دی گئیں مگر مجاہدین نے ایک وحشی اور خونخوار طاقت کے خلاف بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ جنگ جاری رکھی، جنگ طویل ہوتی گئی، امریکی گوڈوں اور گٹوں پر شدید ضربیں لگیں پھر امریکہ نے افغانستان پر تسلط کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔

جنہیں مجاہدین ناکام بناتے گئے، امریکہ جدید اسلحہ کے ساتھ ساتھ اپنے تربیت یافتہ کتوں کو بھی میدان میں لے آیا، یہ کتے بارودی سرنگوں کی نشان دہی کر کے امریکی فوجیوں کی جانیں بچاتے، پھر امریکہ نے ان کتے اور کتیوں کو میڈلز دینے شروع کر دیئے۔

برطانیہ اپنی چار سالہ ساشا نامی کتیا کو اپنے ہینڈلز کے ساتھ افغانستان میں لے آیا اور اس کتیا کو درجنوں فوجیوں کی جانیں بچانے پر اعلیٰ ترین عسکری ایوارڈ دیا۔ ساشا کو پی ڈی ایس اے ڈکن میڈل دیا گیا۔ یہ جانوروں کے اعزازت میں اعلیٰ ترین فوجی اعزاز وکٹوریہ کراس کے برابر ہے، جانوروں کو ایوارڈ دینے کا سلسلہ 1943ء میں شروع کیا گیا تھا، ساشا کتیا 65 واں جانور ہے جسے اس اعزاز سے نوازا گیا،
 اس کتیا کو دھماکہ خیز مواد کا کھوج لگانے کی تربیت دی گئی تھی، زرد رنگ کی یہ کتیا جس فوجی ٹیم کے ساتھ تعینات تھی اس فوجی ٹیم کو قندھار کے علاقے میں سب سے بہترین مانا جاتا تھا، مجاہدین نے اس کتیا کو اکیلی نہیں مارا بلکہ 24 سالہ لانس کو رپورل کینتھ رو کو بھی اس کے ساتھ ہلاک کر ڈالا۔
 24 سالہ لانس کور پورل کینتھ رو کو اپنی موت سے ایک دن قبل ہی وطن واپس جانا تھا مگر موت نے ایسا نہ ہونے دیا، اس نے اپنے ساتھیوں کے خدشات کے باعث جاری آپریشن کو مکمل کرنے کے بعد وطن واپس جانے کا فیصلہ کیا، مجاہدین نے راکٹوں سے حملہ کر کے انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیا۔

برطانوی فوج کے ساتھ ایک کتا بھی کام کر رہا تھا، جسے کرنل کہا جاتا تھا۔۔۔۔ اس کتے کے گلے میں ایک بیلٹ باندھا گیا تھا، جس پر جی پی ایس، ایک ٹارچ اور کیمرہ بندھا ہوا تھا، اتحادی فوج اس طرح کے کتے کو اپنے ساتھ بو سونگھنے کے لئے رکھتی ہے،
لغمان صوبے میں رات کے ایک چھاپے کے دوران مجاہدین نے اس کتے کو زندہ پکڑ لیا، وہ خود کہتے ہیں کہ یہ واقعہ امریکی اور برطانوی فوج کے لئے بہت بڑی سبکی اور شرمندگی کا باعث ہے۔

افغانستان میں امریکہ کی بے بسی اور شکست خوردگی دیکھ کر امریکی پٹھو حامد کرزئی بھی امریکہ سے نظریں چرانے لگا ہے، حامد کرزئی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ انٹرویو میں واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ امریکی جنگ افغانستان کے مفاد کے لئے نہیں تھی بلکہ امریکہ و مغرب کے مفاد کے لئے تھی،
جبکہ امریکہ کا موقف ہے کہ افغانستان کی فلاح و بہبود کے لئے اس نے دو ہزار فوجیوں کی جان قربان اور چھ سوارب امریکی ڈالر سے زائد رقم خرچ کی ہے، دیکھ لیجئے کہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بھی ہر قاعدے اور کلیے کو بالائے طاق رکھ کر امریکہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے جو نیپام، کلسٹر اور ڈیزی کٹر بموں کے ذریعے تباہی پھیلائی تھی،

وہ افغانستان کی فلاح و بہبود کے لئے تھی اگر وہ سب کچھ افغانستان کی فلاح و بہبود کے لئے تھا تو اب وہی کام مجاہدین، امریکی فلاح و بہبود کے لئے انجام دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ، افغانستان کی تعمیر و ترقی کے لئے نہیں ۔۔۔۔بلکہ افغانستان کو کھنڈر، بیابان اور سنسان بنانے کے لئے چڑھ آیا تھا کیا تعمیر و ترقی کے لئے بارود برسایا جاتا ہے؟
کیا فلاح و بہبود کے لئے عورتوں کی منڈیاں لگائی جاتی ہیں؟ کیا تعمیر و ترقی کے لئے کارپٹ بمباری کی جاتی ہے؟

وہ سفاک طاقتیں روشنیاں اچک کر اندھیروں کی سیاہی مسلط کرنے نکل پڑی تھیں مگر مجاہدین نے ان اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں نہیں ماریں، انہوں نے تیرگی شب کو تیرگی بخت نہ بنایا، وہ ان بھیانک اندھیروں سے ذرا خائف نہ ہوئے، اس تمام تر تیرگی میں دنیا کے 59 کے قریب اسلامی ممالک میں سے کہیں سے روشنی کی کرن نہ پھوٹی،
کہیں سے کسی جگنو تک کا گزر نہ ہوا، مجاہدین صف شکن نے اپنے خون سے چراغ روشن کئے، قربانیوں کی لازوال اور ان مٹ داستانیں رقم کیں، خون بہتا رہا، چراغ جلتے گئے، جب چراغوں پر چراغ جلے تو اندھیرے مٹتے چلے گئے۔

آج افغانستان میں اجالے ہی اجالے ہیں، کوبہ کو روشنیاں ہی روشنیاں ہیں، البتہ امریکی فوجی کیمپوں میں اندھیرے، سناٹے اور خوف کے سائے ضرور چھا گئے ہیں، ان کی بصارت اور بصیرت پر پردے پڑ گئے ہیں،
وہ ہونقوں کی طرح منہ پھاڑے بیٹھے ہیں کہ ان کالی پگڑی اور لمبی داڑھی والے لوگوں نے ایک سپر پاور کو نکیل ڈال کر اس کا کیا حشر کر کے رکھ دیا؟

 باوجود اس کے کہ بم باری کے مقابلے میں سنگ باری اور خشت باری تھی مگر ایمان و ایقان کے ساتھ جانیں قربان کرنے کا جذبہ بم باروں میں نہیں، سنگ باروں میں تھا، سو آج امریکی وزیر خارجہ نوحے پیش کر رہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے اثاثے بند کرنے کی مہم بہت سست ہے،
کیا افغانستان میں امریکی فوجیوں کی کارروائیوں میں تیزی ہے؟ جواب نفی میں آئے گا، پھر اپنی ناکامیوں کو پاکستان کے کھاتے میں کیوں ڈالا جا رہا ہے؟

 عنقریب امریکی وزیر خارجہ کانگریس کے سامنے اپنی رسوا کن شکست اور افغانستان سے واپسی کا ایک ایسا نوحہ بھی پیش کرنے والا ہے کہ۔۔۔۔۔ اس کے بعد پھر کسی نوحے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
ان شاء اللہ۔۔۔

No comments:

Post a Comment