یہی ڈر یہودیوں کو کھائے جا رہا تھا کہ ایک طرف افغانستان میں اسلامی حکومت جو کہ افغان طالبان کی صورت میں موجود تھے اور اسکے ساتھ ایک سرپھرا اسلامی ملک پاکستان جو کہ دجال کے خلاف مستقبل میں آنے والی لڑائی ضرور لڑے گا تو انکا منصوبہ یہ تھا کہ اس ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے حملے کو جواز بنا کر بہت آسانی سے افغانستان اور پاکستان پہ حملہ کرکے ان پہ قبضہ کرلیا جائے۔
ایران میں موجود یہودی جو کہ کسی بھی گڑبڑ کرنے پہ پاکستان کے وزیرستان قبائل اور ساتھ ہی موجود افغانستان مجاہدین ان کو ٹکر دے سکتے تھے۔امریکہ کی اگر تاریخ دیکھیں توامریکہ پراکسی وار کے طور پہ ہمیشہ کسی نا کسی تنظیم کو استعمال کرتا رہا ہے پھر اس سے پہلے کہ وہ تنظیم خود اُس کے لیے نقصان دے ثابت ہو اخودہی اُس کا کام تمام کردیتا ہے۔ ایسا ہی امریکہ نے کچھ افغان طالبان کے لیے بھی سُوچا تھا جن کی وجہ سے رُوس کو شکست ہوئی اور اُس ٹائم امریکہ نے بھی انہیں سپورٹ کیا تھا۔امریکہ چاہتا تھا کہ انہیں بھی رستے سے ہٹا دیا جائےاور ساتھ پڑے پاکستان پہ بھی ہاتھ صاف کرلیے جائیں- امریکہ چونکہ ڈایریکٹ پاکستان پہ حملہ نہیں کرسکتا تھا بےشک پاکستان میں کچھ مسائل تھے مگر پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور پاکستان کے خلاف کسی قسم کی مہم جوئی امریکہ کو مہنگی پڑ سکتی تھی۔ اسرائیل پہلے ہی پاکستان سے پٹ چکا تھا تو اب ان کا منصوبہ پاکستان کو کمزور کر کے ختم کرنے کا تھا۔ اس سارے منصوبہ کو اسرائیلی لابی نے ہی ترتیب دیا اور اس میں امریکہ کو خود بھی پاکستان افغانستان کے علاوہ اور بھی بہت فوائد تھے۔
چونکہ ایک طرف امریکہ کو اپنا بھی لالچ تھا ایک لالچ پاکستان کے ایٹم بم کا تھا جن پہ وہ شروع دن سے کڑھ رہا تھا اور اللہ کا کرم ہے کہ آج تک امریکا کے فرشتے بھی انکے بارے میں نہیں جان پائے۔
اور دوسرا لالچ افغانستان میں مجاہدین کی حکومت کے بعد وہاں پوست کی کاشت روک دی گئی جس سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کا ڈرگ بزنس ٹھپ ہوگیا۔ اب امریکہ کی پالیسی ایسی تھی کہ اگر امریکہ افغانستان پہ قبضہ کر لے تو اس صورت میں ایک تو وہ پاکستان کو قابو کر سکتا تھا، ساتھ میں ایران کے یہودیوں کا تحفظ، چین کی سلامتی کو نقصان پہچانا اور افغانستان میں اسلامی حکومت کا خاتمہ اور پوست کی پیداوار سے پوری دنیا میں نشے کا زہر گھول کے اربوں ڈالر کمانا تھا، ساتھ روس کو بھی قابو میں رکھنا تھا۔
خاص کر انڈیا کے ساتھ ملکر پاکستان اور چین کو ختم کرنا تھا اور اس وقت ایشائی خطے میں یہ دو طاقتیں سب سے اہم ہیں ایک پاکستان اور چائینہ جن کی بدولت اور بھی کئی چھوٹے ممالک کا وجود قائم ہے جن میں سری لنکا، مالدیپ۔ بھوٹان، بنگلہ دیش، نیپال اور بہت سے ممالک۔ اگر امریکا افغانستان کو فتح کرلیتا تو اس نے انڈیا اور ایران کی مدد سے پاکستان کو توڑنے میں کامیاب ہوجانا تھا اور اس وقت پورے ایشاء میں اللہ کے کرم سے پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ان تمام ملکوں کی سلامتی کی ضامن ہے اللہ نہ کرے اگر پاکستان ختم ہوجاتا تو چین انتہائی کمزور ہوجاتا کیونکہ انکے پاس پاکستان کے علاوہ یہاں کوئی ایسا پارٹنر نہیں تھا جو ان کا ساتھ دیتا۔ اور بالاخر پاکستان چین اور دیگر ایشائی ممالک پر امریکی اور یہودی لابی قبضہ کرلیتی۔ مگر آج ہمارے حالات ٹھیک ہیں مگر اس مملکت خداداد کو اللہ نے ایسے ہی نہیں بنایا- کاش ہماری قوم کبھی میڈیا کے علاوہ بھی اپنے پاکستان کو جان پاتی جو میڈیا میں دیکھا انکو لگتا ہے بس وہی پاکستان ہے- نہیں بلکہ انشاءاللہ وقت آپکو بتائے گا کہ پاکستان کس بلاّ کا نام ہے۔
تیسرا لالچ یہ تھا کہ امریکہ کو اپنے ہتھیاروں کے لیے ایک منڈی چاہیے تھی، جہاں وہ اپنے ہتھیاروں کو باآسانی جنگ کے نام پہ بیچ سکتا تھا اور شدت پسند کو فراہم کرسکتا تھا۔ اگر آپ انٹرنیٹ پہ ہتھیار فراہم کرنے والوں کی لسٹ دیکھیں تو امریکہ پہلے نمبر پہ ہے اور خاص کر افغان حملے کے بعد یہ گراف بہت تیزی سے اوپر گیا اور امریکہ نے اربوں ڈالر کمائے۔ آپ ایک بات خود سوچیں انڈیا نے کشمیر میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا کسی نے پوچھا؟ امریکہ نے کئی ممالک کو برباد کیا کسی نے پوچھا؟ کیا صرف مسلمان دہشت گرد ہیں؟ امریکہ یہ جنگ اور اپنے ہتھیاروں کی منڈی مغرب میں اسٹیبلش نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ یہ آگ امریکہ تک بھی پہنچ جاتی۔
خیر اب آگے بڑھتے ہیں اور اب آتے ہیں اس جنگ میں پاکستان آرمی اور آئی-ایس-آئی کے کردار پہ- میرے کچھ بھائی اور دیگر حلقے اس بات پہ اکثر کافی شور مچاتے ہیں کہ پاکستان کے حالات کے پیچھے مشرف یہ وہ اڈے نہ دیتے یہ وہ۔ مگر مشرف نے ایسے ہی ناسمجھی میں اڈے نہیں دیے- جب مشرف کو اڈے دینے کا کہا گیا تو مشرف نے اس دوران چائنا کا دورہ کیا اور واپسی پہ اڈے دینے کا ارادہ کر دیا۔ بھائیو ملکی سلامتی کے کچھ راز اور حقائق ایسے ہوتے ہیں جن کو اس موقع پہ ظاہر نہیں کیا جاسکتا- آئیں آگے بڑھتے ہیں، اڈے پوری منصوبہ بندی سے دیے گئے جن میں مجاہدین کی بھی مرضی شامل ہوسکتی تھی اور ہمارے دوست چائینہ کی بھی۔
اب آپ پوچھیں گے کہ وہ کیوں تو وہ اس لئے کہ اگر پاکستان ایسا نہیں کرتا تو قوی امکان تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں سمیت خاص کر ہندوستان کو پاکستان کے خلاف سپورٹ کردیتا اور ویسے بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہر ملک کو اس کے قوانین کی پابندی کرنا لازمی ہوتی ہے ورنہ تمام ممالک کو اس کا ساتھ چھوڑنا پڑتا ہے اس صورت میں پاکستان پابندیوں کی زد میں آکر اکیلا ہوجاتا, کوئی ملک بھی پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری نہ کرتا، پاکستان کی درآمدات اور برآمدات ٹھپ ہو جاتیں، اور ہمارا بُرا حال ہوجاتا اس لیے ہمیشہ ہر کام دانشمندی سے کیا گیا ۔ ویسے بھی خاص کرجب بات پاکستان کی ہو تو ان اقوامِ متحدہ کے قوانین کو سختی سے عمل میں لایا جاتا ہے۔
اڈے نہ دینے کیصورت میں پاکستان ایک طرف تو خود پھنس جاتا اور اس کا نقصان جہاں ایشائی دوست ممالک کو ہوتا وہاں اس سے سب سے زیادہ متاثر افغانستان میں موجود مجاہدین ہوتے کیونکہ کے وہ تو پہلے ہی پابندیوں کی ضد میں تھے اور پاکستان کے علاوہ ہر طرف انکے دشمن موجود تھے جہان انہیں کسی سے بھی کوئی مدد نہیں ملتی اور نہ ان تک اسلحہ پہنچ پاتا اور نہ ہی پاکستان امریکہ کے اعتماد کا فائدہ اُٹھا کرمجاہدین کی مدد کرسکتا- اور پھر اسکا نقصان بھی ہمیں ہی ہوتا کیونکہ افغانستان امریکہ کے ہاتھ آ سکتا تھا۔ اس لیے اگر اسے مصلحت کے نظریہ سے دیکھا جائے تو یہ انتہائی معقول فیصلہ تھا۔ بے شک امریکہ ایک غیر مسلم طاقت ہے مگر اس وقت دُنیا کو انہوں نے ہر طرح سے مٹھی میں کیا ہوا ہے۔ حالانکہ پاکستان پہلے دن سے واقف تھا کہ حقیقت کیا ہے۔ انشاءاللہ باقی کل کے پاکستان کے اڈے دینے کا ذیادہ فائدہ کس کو ہوا۔؟
#PakSoldier HAFEEZ

No comments:
Post a Comment