Monday, October 23, 2017

پاکستان کا امریکہ کو اڈے دینے کا فائدہ یہ ہوا

 پاکستان کی طرف سے امریکہ بے فکر ہوگیا کہ یہ تو اتحادی ہے اور وہ اپنے ہر منصوبے میں پاکستان کو شامل سمجھتا اور پاکستان انہی کے ساتھ ہو کر مجاہدین کو ان منصوبوں سے آگاہ کرتا اور ان کی بھرپور مدد کرتا- اس بات کا اعتراف خود امریکی جنرلز، نیٹو فورسز اور طالبان کمانڈر کرتے ہیں کہ افغانستان میں پاکستان کی سپورٹ کے بغیر طالبان (افغان مجاہدین) کا اتنا ٹکا رہنا، ہرطرح سے ان کے خفیہ مقامات سے واقف رہنا اور جدید ٹیکنالوجی کا حصول، اتنی مقدار میں جدید اسلحہ، اتنی افرادی قوت کیسے ممکن تھی جبکہ انہیں اور کوئی ملک سپورٹ بھی نہیں کررہا۔

 بھائیو آج ایشاء پاکستان کی اس قربانی کی وجہ سے ہی بچا ہوا ہے۔ پاکستان نے اللہ کے ان مجاہدین کو بھرپور سپورٹ کیا اور امریکہ کو وہ سبق سکھایا کہ یاد کریں گے جیسے روس کی کمر توڑی تھی اب امریکہ کی۔ خود امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں وہ مار دی کہ ہم اب تک اس شاک سے نہیں نکلے کہ پاکستان آخر تھا کس کے ساتھ؟  ہر موڑ پہ پاکستان نے ایسے انداز میں مجاہدین کو سپورٹ کیا کہ خود امریکا رو پڑا اور آج کئی  سال کے بعد بھی تمام تر ٹیکنالوجی جدید ترین مشینری اور کئی ملکوں کی فوج کو ساتھ لے کر بھی امریکہ صرف دھول چاٹ رہا ہے صرف پاکستان کی وجہ سے اللہ کے ان گمنام مجاہدین کی وجہ سے جنہوں نے امریکہ کو بتا دیا کہ  تم سپر پاور  نہیں

یہاں اب بات آتی ہے تحریکِ ظالمان پاکستان کی۔چونکہ امریکہ جان چکا تھا کہ آخر وہ اب تک افغانستان میں دھول کیوں چاٹ رہا تھا تو انہوں نے اسکا بدلہ لینے، پاکستان کو غیر محفوظ کرنے، پاکستان کو دُنیا سے الگ کرنا، پاکستانی معیشت کی کمر توڑنا، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے پروپگینڈہ شروع کرنا کہ یہ محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے اور خاص کر پاکستانی عوام میں مجاہدین اور جہاد کے خلاف عوام کو متنفر کرنے کے لئے بہت بڑا اور سُوچا سمجھا منصوبہ بنایا گیا۔ضمیر فروشوں کو خریدا جن میں کچھ محسود قبائل کے لوگ تھے، صحافی، میڈیا اور سیاستدان جن بے ضمیروں کی وجہ آج ہمارے وزیرستان کے قبائل کو اتنا دکھ اُٹھانا پڑا اور پاکستان کو اتنی شہادتیں برداشت کرنی پڑیں اور ہم دل سے اپنے ان بھائیوں بہنوں اور ماؤں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قربانی دے کر یہ ثابت کردیا کہ جب بھی وطن نے جاں مانگی ہم حاضر ہیں۔

میری ایک بات یاد رکھیں طالبان دو قسم کے تھے ایک جو افغانستان میں لڑرہے تھے اور ایک پاکستان میں۔ پاکستانی طالبان مجاہدین نہیں تھے اور نہ انکا افغان مجاہدین سے دور دور تک کوئی واسطہ تھا کیونکہ افغان مجاہدین کا مقصد صرف اللہ کے لئے لڑنا تھا اور ان کتوّں کا مقصد صرف پاکستان کو توڑنا، امریکی خوشنودی، دنیا میں اسلام اور جہاد کے خلاف لوگوں کو متنفرکرنا اور پاکستانی فوج کے خلاف اپنے ہی لوگوں کو اُکسانا تھا، تاکہ پاکستان عراق کی طرح خانہ جنگی میں برباد ہوجائے اور اگر پاکستانی فوج صرف ڈالروں کے لئے لڑتی تو افغانستان میں امریکا کا اتحادی بن کے لڑتی اور آج افغانستان امریکہ کا ایک مضبوط قلعہ ہوتا۔ پاکستان نے امریکہ کو دونوں طرح سے انتہائی کمزور کرنے کی ٹھانی تھی اور چائینہ اور افغان طالبان مجاہدین اس بات سے اچھی طرح واقف تھے۔ پاکستان نے وہی ڈالر انہیں کے خلاف لگائے اور انہی سے مجاہدین کی مدد کرتے رہے۔

انکی خوراک، ادوایات، اسلحہ اور دوسری ضروریات کے لئے استعمال کیا گیا۔ ہم نے دنیا کو یہی شو کرایا کہ ہم امریکہ کےساتھ ہیں مگر اندر کی چال اللہ کے مجاہدوں نے کچھ اور ہی بنائی تھی۔ جنگ دھوکے کا نام ہے اس میں دھوکہ اور چال چل کے ہی سےجیتا جاتا ہے۔ امریکہ کی اب چال تھی کہ جب یہی خارجی جب اپنے لوگوں کو ماریں گے تو ہم ان کو طالبان کا نام دے کہ افغان مجاہدین کے کھاتے میں ڈال کے لوگوں کو جہاد سے متنفرکردیں گے، پاک فوج اور آئی ایس آئی کو اپنے ملک میں اُلجھا کرالگ تھلگ کردیا جائے۔تو ایک تو امریکہ پاکستان کو گھر میں لڑا دے گا اور قصّہ تمام ہوگا اور آگے آنے والی جنگوں میں جن میں ہمارے پٹھان بھائی اور KPK کا صوبہ اسلام کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنانے میں پیش پیش رہا ان میں یہ صوبہ اپنا ہاتھ کھینچ لے گا۔

 اس طرح یہودی اور دجالی طاقتوں کا راستہ صاف ہوجائے گا ۔ امریکہ چالیں بناتا رہا مگر میرا اور آپکا اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کی پلاننگ ان سے کہیں ذیادہ موثر اور بہترین ہے۔ داعش بھی اسی کی ایک کڑی ہے جو کہ امریکہ کا ایک ملٹی نیشنل مہرا ہے امریکہ کےلیے یہ مشکل ہے کہ ہر جگہ پہ نئی تنظیم بنائی جائے توکیوں نہ ایک ہی ایسی تنظیم ہوجسے ہر جگہ استعمال کیا جائے۔

 دو جہانوں کے بادشاہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیشنگوئی فرمائی تھی :
’’مشرق کی جانب سے ایسے لوگ برآمد ہوں گے جو علاقوں کے علاقے فتح کرتے ہوئے’’مہدی‘‘ کی مدد یعنی ان کی حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے پہنچیں گے۔‘‘
امام زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ ’’کالے جھنڈے خراسان سے نکلیں گے تو جب وہ خراسان کی گھاٹی سے اتریں گے تو ’’اسلام‘‘کی طلب میں اتریں گے اور کوئی چیز اُن کے آڑے نہیں آئیں گی سوائے اہل عجم کے جھنڈوں کے جو مغرب سے آئیں گے۔

آپﷺکے زمانہ مبارکہ میں خراسان کی حدود عراق سے ہندوستان تک اور شمال میں دریائے آمو تک پھیلی ہوئی تھیں (دیکھئے معجم البلدان )۔خاص کر افغانستان ،صو بہ سرحد کے قبائلی علاقے باجوڑ اور مالاکنڈڈویژن اورافغانستان سے متصل ایران کا مشہدتک کا علاقہ شامل ہیں۔ اس وقت افغانستان میں وہ لشکر منظم ہورہا ہے جو باوجود ہر کوشش کہ دجالی قوتیں اس کو ختم نہیں کرسکیں ہیں بلکہ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ مجاہدین ان پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں ۔عجیب اتفاق کہیے یا تقدیر مبرم کہ عرب مجاہدین کا پرچم بھی کالے رنگ کا ہے اور انشاء اللہ تمام طوفانوں کا سینہ چیرتا ہوا یہ لشکر بیت المقدس فتح کرے گا
ایک روایت میں ہے کہ اس لشکر والوں سے تین ساعت کے لئے رحمت کو اٹھالیا جائے گا۔یہ اللہ کی طرف سے آزمائش اور امتحان کے طور پر ہوگا تاکہ اللہ اپنے وعدوں پر سچا یقین رکھنے والوں کو پرکھ لے۔

صوبہ سرحد اور قبائل………
صوبہ سرحد اور قبائل کے بارے میں شاہ نعمت اللہ ولی کی پیشن گوئیاں بھی ہیں جو یقینا اہل ایمان کے لئے دلی تسلی اور تقویت کا باعث ہوں گی۔ان پیشن گوئیوں کو شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ’’الاربعین‘‘میں بھی نقل فرمایا ہے ۔یہ پیشن گوئیاں فارسی اشعار کی شکل میں ہیں ۔اگر چہ پیشن گوئیاں کوئی قطعی یقین نہیں دیتی ہیں البتہ ان میں سے کئی اشعار کی احادیث سے بھی تائید ہوتی ہے ۔یہاں ہم ان کا ترجمہ پیش کر رہا ہوں۔فرمایا :
’’اچانک مسلمانوں کے درمیان شور برپا ہوگا اور اس کے بعد وہ کافروں (بھارت)سے ایک بہادرانہ جنگ کریں گے پھر محرم کا مہینہ آئے گا اور وہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں تلوار دے دیگااور وہ مسلح ہوکر جارحانہ اقدام کریں گے پھر’’حبیب اللہ‘‘نامی ایک شخص جو اللہ کی طرف سے صاحبِ قرآن ہوگا ،اللہ کی مدد کے ساتھ اپنی تلوار میان سے نکالے گا۔‘‘
’’صوبہ سرحد کے بہادر غازیوں کے لشکر سے زمین مرقد کی طرح لرز اٹھے گی ،لوگ دیوانہ وار جہاد کے لئے آگے بڑھیں گے اور راتوں رات ٹڈیوں اور چیونٹیوں کی طرح حملہ کریں گے یہاں تک کہ افغانی قوم فتح حاصل کرلے گی ۔جنگل ،پہاڑ اوردشت ودریا سے قبائل تیزی کے ساتھ ہر طرف سے آتشیں اسلحہ لئے ہوئے سیلاب کی مانند امڈ پڑیں گے ۔پنجاب ،دہلی ،کشمیر ،دکن اور جموں کو اللہ کی غیبی مدد سے فتح کرلیں گے ۔دین اور ایمان کے تمام بدخواہ مارے جائیں گے اور تمام ہند وستان ہندوانہ رسموں پاک ہوجائے گا ۔ہندوستان کی طرح یورپ کی قسمت بھی(ان مجاہدین کے ہاتھوں)خراب ہوجائے گی اور تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی ۔یہ جنگ و جدال چند سال تک سمندر اور میدان میں وحشیانہ طور جاری رہے گا ۔بے ایمان ساری دنیا کو تباہ کردیں گے آخر کار ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔اچانک موسم حج میں حضرت مہدی خروج فرمائیں گے۔

تو امریکہ اور اسکے دجالی ساتھیوں نے اس لشکر کے خلاف لوگوں کو متنفر کرنے کےلئے ایک ڈوپلیکٹ اور جھوٹی تنظیم داعش بنائی تاکہ لوگ ان کو اُس مبارک جماعت کا حصہ سمجھیں اور ان کی گندی اوراسلام دشمن کاراوائیاں دیکھ کر لوگ اس جماعت سے نفرت کریں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے جس میں پاکستان کے قبائل، افغانستان اور انشاءاللہ پاکستان افواج ان کے شانہ بشانہ دشمن کا مقابلہ کرے گی۔ مگر میرے اللہ نے انکی ہرچال کو ناکام کردیا۔ یہ ملک پاکستان ایسے ہی نہیں بن گیا صرف اور صرف اللہ کے حکم اور اسکے پیارے نبی پاک کی دعاوّں سے بنا ہے۔ انڈیا نے امریکہ اور اسرائیل کی چمچہ گیری اس لئے بھی شروع کی ہوئی ہے کہ وہ پاکستان کو ختم کرنے میں اسکی مدد کریں کیونکہ آگے اس پاکستان نے اشاءاللہ غزوہ ہند لڑنا ہے اور ہندوستان پہ قبضہ کرنا ہے-جلدہی امریکہ کا حشر بھی سوویت یونین جیسا ہونے والا ہے انشاءاللہ۔

No comments:

Post a Comment