Thursday, November 23, 2017

چاہ بہار اور پاکستان چین قتصادی راہداری

ایران اور پاکستان  ان کے درمیان رشتہ صدیوں پر محیط ہے. دونوں ممالک کے درمیان بہت سے معاشی اور دفاعی نوعیت کے معاہدے طے پا چکے ہیں. دونوں  کے درمیان اچھے تعلقات خطے میں قیام امن کے لیے بہت ضروری ہیں۔

 زمینی حقائق اورجغرافیائی سیاست دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے نزدیک کرتی ہیں مگر پچھلے کچھ دنوں سے میڈیا پر ایران، بھارت اورافغانستان کے مابین چاہ بہار کی بندر گاہ کے مشترکہ معاہدے کو لے کر بہت چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ جسے یہ معاہدہ بھارت اور ایران کو مزید نزدیک لے اۓ گا اورافغانستان تو پہلے ہی بھارت کے ساتھ راہ و رسم بڑھا رہا ہے تو یہ خطے میں پاکستان کو اکیلا کرنے کی سازش ہو سکتی ہے۔

پہلی بات کہ گوادر اورچاہ بہار بندر گاہ کا ایک دوسرے سے کوئی مقابلہ نہیں ہے کیوںکہ گوادر ایک قدرتی گہرے سمندر کی بندر گاہ ہے اور اس پرپاکستان اورچین کے مابین ہونے والے اقتصادی راہ داری کے معاہدے پر #چھیالیس_بلین_ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے جب کہ اس کے مقابلے میں چاہ بہار پرصرف اورصرف چھے سو ملین ڈالر کا تخمینہ ہے۔

 گوادر میں صرف ایک بندر گاہ ہی نہیں بنائی جا رہی بلکہ اس کو اقتصادی راہ داری کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے کہ جو کاشغر سے لے کر گوادر تک کے بل ترتیب تین روٹ پر مشتمل ہے جوکہ پاکستان کے چاروں صوبوں سے ہوتے ہوے چین تک جاتے ہیں۔ اس سے تمام پاکستان کو ترقی کے یکساں مواقع میسر آئیں گے۔

پاک چین اقتصادی راہ داری ایک میگا پروجیکٹ ہے کہ جس میں صرف بندرگاہ بنانا ہی ایک مقصد نہیں ہے بلکہ اس بندر گاہ کو تجارتی مقصد کے لیے استعمال بھی کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے گوادر کو کاشغر سے زمینی راستوں کے ذریعے ملایا جا رہا ہے جو پاکستان میں روزگار کے نۓ مواقع پیدا کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی تجارت کو بھی فروغ ملے گا اورپاکستانی برآمدات کو بھی عالمی منڈی میسر ا جاتے گی۔
 مگر ہم اگر چاہ بہار کو دیکھیں تو اس کا کوئی وازہ روٹ نہیں ہے ایران اور افغنستان کے درمیان تو زمینی راستہ ممکن ہے مگر بھارت تک سامان لانے اور لے جانے کے لیے سمندری راستہ اختیار کرنا پڑے گا اور یہ بہت مہنگا سودا ہو گا. اور اس سے چند مخصوص شہرہی ترقی کریں گے۔

یہ اقتصادی راہ داری پاکستان میں ہونے کی وجہ سے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت خطے میں کئی گناہ بڑہ گئی ہے اس خطے کی ایک بہت بڑی تجارت اقتصادی راہداری کے ذریعے ہو گی اور چین کی یہ سرمایا کاری پاکستان کو لمبے عرصے تک فائدہ دیتی رہے گی۔
 بھارت کوپاکستان کی یہ ترقی بری طرح سے کھل رہی ہے اس وجہ سے وہ ہر منفی حربہ استعمال کر کے اس کو سبوتاز کرنے کی کوشش کر رہا ہے. اقتصادی راہ داری کو نقصان پہنچانے کے لیے انڈیا را تنظیم کو استعمال کر کے اس منصوبے کوغیرمستحکم کرنا چاہتا ہے۔

 افواج پاکستان نے پاک چین اقتصادی راہ داری کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اورچیف آاف آرمی سٹاف  نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی ترقی اور خوش حالی پر کسی قسم کی کوئی آنچ نہیں انے دیں گے۔
#PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment