Tuesday, November 21, 2017

فورتھ اور ففتھ جنرییشن وار فیئر اصل میں کیا ہے۔

2 عالمی جنگوں میں 9 کروڑ 70 لاکھ جانوں کے ضیاع کے بعد دنیا پر قابض ہونے کے خواہش مند حضرات ڈر سے گئے۔ سوچا گیا کہ کم و بیش 9 کروڑ 70 لاکھ سے زائد لوگوں کی جانیں جانے کے باوجود بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے لہٰزا جنگ کی حکمتِ عملی، جنگی انداز و اطوار بدل دیے گئے۔ سرد جنگ متعارف کروائی گئی، فورتھ اور ففتھ جنرییشن وار فیئر متعارف کروائے گئے۔سو دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والوں نے اب جنگوں کے انداز بدل دیے ہیں۔ آج کے دور کی جنگ میں جسموں کو تسخیر نہیں کیا جاتا اذہان کو تسخیر کیا جاتا ہے۔ علاقوں پر حکومت کے بجائے دماغوں پر حکومت کی جاتی ہے۔ اور میڈیا اس جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔گلوبل ازم کا نعرہ لگایا گیا کہ کوئی سرحد نہیں ہے تمہاری۔ مقصد کیا تھا آخر اس نعرے کا؟ وہ جو گورے اور کالے کے فرق سے آج تک نہیں نکل سکے نا نکلنا چاہتے ہیں نسلی تفاخر سے وہ کیوں گلوبل ازم کا نعرہ مارتے ہیں؟ اس لیے کہ پوری دنیا میں انفرادی شناختیں مٹا دی جائیں، علاقائی اور قومیتی تہذیب و ثقافت کو ختم کر دیا جاۓ۔ قوموں کی انفرادی شناخٹ مٹا دی جاۓ، ان کے اپنے نظریات ختم کر دیے جائیں۔یورپ میں جینز پہنی جاتی ہے برگر کھایا جاتا ہے تو ایشیاء میں بھی جینز پہنی جاۓ، برگر کھایا جاۓ، اس طرح مارکیٹ وسیع ہو، ایک براعظم میں بکنے والی چیزیں پوری دنیا میں بکیں، سٹینڈر کا نعرہ لگا کر پوری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیز کی جڑیں مظبوط کی گئیں اور پوری دنیا میں سیمبلز کو معیار کی علامت بنا کر متعارف کروایا گیا۔ اب اگر ٹی شرٹ پہ ٹک کا نشان لگا ہے تو نائیکی کی پروڈکٹ کہلائے گی۔ اگر فون کے پیچھے کھایا ہوا سیب بنا ہے تو ایپل کا کہلائے گا۔ یہ علامتیں ہی اب سٹینڈر اور ھائی سٹینڈر متعین کرتی ہیں۔اب ہوتا یہ ہے کہ پوری دنیا میں بکنے والی مصنوعات اور سود کے کاروبار سے اکھٹا ہونے والا پیسا انہوں لوگوں کے پاس اکھٹا ہوتا ہے جو پہلے یہ کمائی جنگوں کے بعد علاقے فتح کر کے کرنا چاہتے تھے۔ اس کمائی سے اکھٹا ہونے والا پیسہ چھوٹی موٹی علاقائی جنگوں کے لیے وسائل پیدا کرنے میں جھونکا جاتا ہے۔ نظریات، علاقائی تہذیب اور ثقافت کی دشمن این جی اوز کو دیا جاتا ہے اور ان کے خیالات و نظریات کی تبلیغ کروائی جاتی ہے۔ یا پھر ملکوں کے تعلیمی اداروں کو دیا جاتا ہے تا کہ وہ نئی نسل کے زہنوں میں وہی نظریات ڈالیں جو دنیا پہ حکومت کا خواب دیکھنے والے چاہتے ہیں

No comments:

Post a Comment