Tuesday, November 21, 2017

جنگ کا مہورت

اسی جوتش علمِ نجوم کی روشنی میں2011ء میں بھارت کے ہندو پنڈتوں نے پاک بھارت جنگ کا ایک مہورت نکالا تھا، ان کے نزدیک یہ جنگ ہونا لازمی ہے کیونکہ ستارے جنگ و جدال چاہ رہے ہیں۔
"بھارت جس کے پنڈتوں اور نجومیوں نے اس مملکت خداداد پاکستان کے پچاس سال کے اندر خاتمے کی پیش گوئی کی تھی، وہ سب کے سب اس مملکت کا ایسا نقشہ پیش کر رہے تہے  جو 2013ءمیں چین کی پشت پناہی سے بھارت پر حملہ کر دے گا۔ بھارت کی اقتصادی ترقی رک جائے گی اور وہ اس حملے کا مقابلہ مشکل سے کر سکے گا۔ البتہ وہ کہتے ہیں کہ ہمالیہ کے پہاڑوں سے ایک مہارشی اترے گا اور وہ ان کی فوج کی رہنمائی کرے گا۔ ان کے نزدیک یہ مہارشی گائن گینگ کے غار میں چھپا بیٹھا ہے۔ پاکستان کے بارے میں ان کے خیالات کیوں بدلے، یہ قابل غور ہے۔ دیدی نجوم کے مطابق ان کے پنڈت جانتے تھے کہ اگر پاکستان وینس کی مہادشا میں داخل ہو گیا تو پھر ناقابل تسخیر ہو جائے گا۔ اس دشا میں داخل ہونے کا خوف انہیں پہلے سے تھا کیوں کہ ان کے نزدیک پاکستان کے لگن کا مالک مریخ تیسرے خانے میں ہے جو اس قوم کی عظیم قوت ارادی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اس کے ٹوٹنے کی پیش گوئیاں اس لئے کرتے تھے کہ حکمرانی زائچے میں چوتھا خانہ ہوتا اور پاکستان کے چوتھے خانے میں سورج، زحل، عطارد اور زہرہ ہیں، یعنی اتنے سارے اقتدار کے بھوکے اسے تباہ کر دیں گے۔ لیکن 27 دسمبر 2007ء کو پاکستان اپنی نحوست سے نکل کر زہرہ یعنی وینس کی مہادشا میں داخل ہوا ۔ یہ مہادشا  بیس سال پر محیط ہے۔ ویدک نجوم کے مطابق زہرہ اپنی سمتی طاقت شمال سے حاصل کرتا ہے اور شمالی علاقے کے لوگ ان بیس سالوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔ زہرہ کی اس دشا میں شروع میں حالات بگڑیں گے، پھر مذہبی طاقتوں کا گلبہ شروع ہو گا، زہرہ راہو کے ساتھ مل کر مذہبی طاقتوں کےلئے راہ ہموار کرے گی اور مریخ جو کہ افواج کا ستارہ ہے ان کی مدد کے لئے آئے گا۔ یہ وہ زمانہ ہوگا جب  بھارت فسادات اور معاشی ناہمواری کا سامنا کر رہا ہوگا،
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
 وہ ہندو قوم جو جوتش اور نجوم کے بغیر ایک قدم نہیں اٹھاتی، اس کے پنڈتوں نے   جنگ کا مہورت نکال دیا ہے اور غار میں چھپے مہارشی کی آمد اور فتح کی خوشخبری بھی دے دی ہے۔ یہ شادی کا مہورت نہیں کہ اگلے اچھے وقت پر ملتوی کر دیا جائے۔ یہاں تو غار سے مہارشی کی آمد کا اعلان اور اگر یہ وقت گزر گیا تو پھر ایک سو سال تک فتح کا تصور نہیں ہو سکتا۔ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے اور صرف اسے معلوم ہے کہ اگلے لمحے اس دنیا میں کیا ہونے والا ہے۔ وہ وحی کے ذریعے سید الانبیاء ﷺ کو آنے والے زمانوں کی خبر دیتا رہا ہے اور آپؐ ان فتنوں سے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ  کو خبردار کرتے رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے ان جنگوں کا بھی تذکرہ کیا ہےجو اس مسلم امہ کو پیش آئیں گی۔ لیکن ایک فتنہ جس سے آپؐ نے سب سے زیادہ خبردار کیا وہ فتنہ دجال ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اس فتنے کے بارے میں اس قدر پریشان رہتے تھے کہ یوں لگتا تھا جیسے آج ہی وہ ظاہر ہو جائے گا۔ آپ ﷺ بھی عموماً تشہد کی دعاؤں میں یہ دعا اکثر مانگتے "اللھم اعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال" اے اللہ میں تجھ سے دجال کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں۔ (مشکوٰۃ۔ باب تشھد) حیرت کی بات ہے کہ دجال کا ذکر احادیث میں کسی خفیہ مقام پر چھپے ہوئے یا مستور حیثیت میں آیا ہے کہ جب وہ دیکھے گا کہ اس کے ساتھیوں کو شکست ہو رہی ہے تو تلملا کر اصفہان کے شہر میں آ کر ظاہر ہوجائے گا، جہاں اس کا ساتھ ستر ہزار یہودی دیں گے۔  لیکن دجال کے خروج کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک لوگ اس کے تذکرے سے غافل نہ ہو جائیں یہاں تک کہ آئمہ مساجد بھی منبروں پر اس کا تذکرہ کرنا چھوڑ دیں۔ (رواہ عبداللہ ابن الاحمد۔ قال الہیشمی وھہ صحیحہ)۔ میں یہاں جہاد ہند کی ان اٹھارہ احادیث کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا جس میں اس جہاد کا وقت بتاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مسلمان ہند کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے تو اپنے درمیان عیسیٰ ابن مریم کو پائیں گے۔ عیسیٰ ابن مریم ہی کے ہاتھوں دجال کا خاتمہ ہونا ہے۔ یہ معرکہ چونکہ حق و باطل کا آخری معرکہ ہے، اس لئے اللہ نے کشف و الہام کے ذریعے اپنے خاص بندوں کو اس کی شدت سے باخبر کیا ہے۔ اس خبر کے وارث نعمت اللہ شاہ ولی نے 548 ہجری یعنی آٹھ سو سال قبل ان واقعات کی ترتیب اپنی طویل مثنوی میں درج کی ہے۔ اس مثنوی پر انگریز وائسرائے نے پابندی لگا دی تھی کہ ان کی ہر بات سچ ثابت ہو رہی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان پر انگریز کی حکومت صرف ایک سو سال تک رہے گی۔ مثنوی پر پابندی تو لگ گئی مگر انگریز پھر بھی سو سال کے اندر یہاں سے چلا گیا۔ انہی نعمت اللہ شاہ ولی نے کہا تھا کہ پاکستان و ہند میں چار جنگیں ہوں گی۔ پہلی سترہ روز چلے گی۔ دوسری میں مشرقی بازو الگ ہوگا، تیسری صرف مخصوص پہاڑی علاقوں میں ہوگی لیکن چوتھی جنگ فیصلہ کن ہوگی، جس میں عالم اسلام سے مسلمانوں کے جتھے شامل ہو جائیں گے۔ شام، ترکی، ایران، عرب سے مجاہدین آئیں گےاور کابل کے ہر اول دستوں کی آمد سے میدان فتح سے ہمکنار ہوگا۔ دریائے سندھ اٹک کے مقام پر تین مرتبہ کون بہے گا۔ یہ جنگ کب ہوگی، اور کیسے ہوگی اس کا حال صرف اور صرف اللہ ہی جانتا ہے لیکن اس فتح کی بشارت سید الانبیاءﷺ نے دی ہے۔ یہی وہ فتح ہے جس سے مایوس ہو کر دجال اپنی پناہ گاہ سے خود باہر نکل آئے گا۔ ہندو پنڈت اسے مہارشی کہیں یا یہودی اسے مسیح لیکن ان دونوں کی تیاریاں اور ہر دم اُس لمحے کے لئے چوکس رہنے کا عمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس وقت کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ اسی فتنے سے مقابلے کے لئے صحابہ کرام رضوان اللہ ہر وقت چوکس رہا کرتے اور آپ ﷺ نماز کے دوران تشہد میں اس سے پناہ کی دعا کرتے تھے۔ لیکن ہم ہیں کہ چین کی بنسی بجا رہے ہین اور امن کی آشا میں ڈوبے ہوئے ہیں اور دوسری جانب بھارت میں جنگ کا مہورت  پہلے نکل چکا ہے۔ جو ہندو مہورت کا وقت آنے پر شادی کے پھیرے تک ملتوی نہیں کرتا، کاروباری سودے نہیں کرتا وہ اس مہورت کے نکلنے پر کیا جنگ ملتوی کر دے گا ؟

No comments:

Post a Comment