٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
بلوچستان میں مداخلت سمیت نیشنلسٹ جماعتوں کی پہلے درپردہ اور اب کھلم کھلا بھارت مدد کر رہا ہے جبکہ خطے کے لیے موجودہ امریکی ایلچی یہ تسلیم کر چکا ہے کہ قندھار ،بلگرام اور جلالہ آباد میں بھارتی کونسلر جنرل کے قیام کا کوئی جواز نہیں اور پاکستان میں دہشت گردوں کی کاروائیوں میں بھارت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ بمبئی حملے پارلیمنٹ پر اٹیک اور سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کرنل ستیش اور اجمل قصاب دونوں ہی بھارتی شہری ثابت ہو چکے ہیں اور بھارت اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک دفعہ پر پاکستان کی فوج کو ٹارگٹ کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
بھارت میں جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ،ہر بھارتی پارٹی یہ الیکشن پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر جیتنا چاہتی ہے۔ 2009کے انتخابات سے قبل بھارت نے ممبئی حملوں کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیا اور مقامی سطح پر پاکستان سے نفرت پیدا کر کے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ وہاں وہی پارٹی انتخابات میں سکندر بنتی ہے جو خود کو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ثابت کر دے۔ ۔ اس نے پاکستانیوں کی عید اور آزادی کی خوشیاں برباد کر دیں۔لائن آف کنٹرول کی دن میں تین تین بارخلاف ورزیاں کرتے ہوئے پاک فوج کے جوانوں کو شہید اور زخمی کر رہا ہے ادھر دلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن پر حملہ کیا گیا ۔لاہور آنے والی دوستی بس اور مسافروں کو یرغمال بنا کر غنڈہ گردی کی گئی۔یہ سب کچھ بھارت کا الیکشن سٹنٹ ہی سہی لیکن پاکستان کے خلاف اس کی شدید نفرت کا اظہار اور پاکستان کو بے وقعت سمجھ کر کچھ بھی کر گزرنے زعم اور تکبر بھی ہے۔کشمیر پر قبضہ اور پاکستان کے حصے کا پانی روکنا اور سیلاب کے پانی کا رخ پاکستان کی طرف کر دینا اسی کا شاخسانہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا بھارت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے یا نہیں بلکہ زندہ قوموں کی طرح ہمیں تیاری میں رہنا چاہیے۔باہمی اتحاد ،یگانگت اور حب الوطنی سے ہم بھارت کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
ہمارے حکمرانوں کو بھی اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مکار دشمن کبھی دوست نہیں ہو سکتا۔اب شاید غزوہ ہند کا بھی وقت آچکا ہے اس کی اس کا مختصر احوال یوں ہے ”صدیوں پہلے احادیث مبارکہ میں خراسان اور غزوہ ہند کے بارے پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کو قدیم زمانے میں خراسان کہا جاتا تھا۔ اس میں پہلے وہ تمام علاقہ شامل تھا جو اب افغانستان ہے جبکہ یہ ملک مشرق میں بدخشاں تک پھیلا ہوا تھا اور اس کی شمالی سرحد دریائے جیحوں اور خوارزم تھے۔ نیشاپور، مرو، ہرات اور بلخ اس کے دارالحکومت رہے ہیں۔ قدیم زمانہ کے خراسان کا جو حصہ ایران میں شامل ہے وہ اب بھی اپنے اصل نام کے ساتھ موجود ہے لیکن اسے تین صوبوں جنوبی خراسان، شمالی خراسان اور رضاوی خراسان میں تقسیم کر دیا گیا ہے جبکہ مالاکنڈ ڈویژن سمیت شمالی پاکستان کے مختلف حصے بھی خراسان کا حصہ رہے ہیں۔ اس وقت پوری د±نیا میں خراسان نام کے کسی ملک کا وجود نہیں ملتا لیکن صدیوں پہلے یہ ملک افغانستان، ایران، پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک پھیلا ہوا تھا۔ یقیناً آج کا پاکستان ہی خراسان ہے جو پاکستان اور اسلام کے بدترین دشمن کی موت بن سکتاہے ۔اب ترانے بجنے لگے ہیں ،بنئے پر ایک شدید اور پوری قوت سے یلغار کی ضروت ہے۔ہمیں بھارت کی کل ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہوگی اس نے پاکستان کی طرف سے بڑھائے ہوئے دوستی کے ہاتھ کو ہمیشہ بری طرح جھٹکا ہے۔ آخر ہمارے حکمران بھارت سے کب تک امن کی بھیک مانگتے رہیں گے،اپنے پانی کی واگزاری اور کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرتے رہیں گے؟
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو
#PakSoldier HAFEEZ

No comments:
Post a Comment