Tuesday, November 21, 2017

بھارت کی جارحیت غزوہ ہند اور جنگی ترانے

بہت ہوگئی ، بھارت نے بہت کرلیا ۔ اب مزید کی گنجائش نہیں ہے۔۔۔گوقائد اعظم کی رحلت کے بعد گو نااہل حکمران ہی آئے ،لیکن انہوں نے بھارت کے آگے جھکتی رہے  بھارت نے پاکستان کو شروع دن سے غیر مستحکم کی سازشیں کیں اور ان پر عمل بھی کیا،اس نے پاکستان توڑا،دہشتگردی کی ، جھوٹے الزامات لگا کر پاکستان کو دنیا میں بدنام کیا۔ کشمیر پر قبضہ کر کے پاکستان کے ساتھ ایک مستقل تنازعہ کھڑا کردیا۔وہ نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔1947 ءسے لے کر اب تک پانچ جنگیں مسلط کر چکا ہے ۔اس نے ایٹمی دھماکہ کر کے علاقے کی سپر پاور بننے کی کوشش کی ۔پاکستان کو مجبورایہی عمل دہراناپڑااور آج پاکستان ایٹمی میدان میں بھارت کے مقابلے میں کہیں آگے ہے۔ پاکستان کی طرف آنے والے دریاﺅں پر بھارت درجنوں ڈیم بنا چکا ہے اور اب رہتی سہتی کسر نکالنا چاہتا ہے جب کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت راوی ،ستلج، بیاس وہ پہلے ہی پاکستان سے لے کر خشک کر چکا ہے۔ ہمارے ہی حصے کے پانی پر ڈیم بنا کر ہمیں بجلی بیچنا چاہتا ہے اور اس بجلی بیجنے سے اسے جو پیسہ حاصل ہوگا اس سے اسلحہ تیار کرکے پاکستان ہی پر چلانے کا منصوبہ ہے۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
 بلوچستان میں مداخلت سمیت نیشنلسٹ جماعتوں کی پہلے درپردہ اور اب کھلم کھلا بھارت مدد کر رہا ہے جبکہ خطے کے لیے موجودہ امریکی ایلچی  یہ تسلیم کر چکا ہے کہ قندھار ،بلگرام اور جلالہ آباد میں بھارتی کونسلر جنرل کے قیام کا کوئی جواز نہیں اور پاکستان میں دہشت گردوں کی کاروائیوں میں بھارت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ بمبئی حملے پارلیمنٹ پر اٹیک اور سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کرنل ستیش اور اجمل قصاب دونوں ہی بھارتی شہری ثابت ہو چکے ہیں اور بھارت اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک دفعہ پر پاکستان کی فوج کو ٹارگٹ کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
بھارت میں جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ،ہر بھارتی پارٹی یہ الیکشن پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر جیتنا چاہتی ہے۔ 2009کے انتخابات سے قبل بھارت نے ممبئی حملوں کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیا اور مقامی سطح پر پاکستان سے نفرت پیدا کر کے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ وہاں وہی پارٹی انتخابات میں سکندر بنتی ہے جو خود کو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ثابت کر دے۔ ۔ اس نے پاکستانیوں کی عید اور آزادی کی خوشیاں برباد کر دیں۔لائن آف کنٹرول کی دن میں تین تین بارخلاف ورزیاں کرتے ہوئے پاک فوج کے جوانوں کو شہید اور زخمی کر رہا ہے ادھر دلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن پر حملہ کیا گیا ۔لاہور آنے والی دوستی بس اور مسافروں کو یرغمال بنا کر غنڈہ گردی کی گئی۔یہ سب کچھ بھارت کا الیکشن سٹنٹ ہی سہی لیکن پاکستان کے خلاف اس کی شدید نفرت کا اظہار اور پاکستان کو بے وقعت سمجھ کر کچھ بھی کر گزرنے زعم اور تکبر بھی ہے۔کشمیر پر قبضہ اور پاکستان کے حصے کا پانی روکنا اور سیلاب کے پانی کا رخ پاکستان کی طرف کر دینا اسی کا شاخسانہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا بھارت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے یا نہیں بلکہ زندہ قوموں کی طرح ہمیں تیاری میں رہنا چاہیے۔باہمی اتحاد ،یگانگت اور حب الوطنی سے ہم بھارت کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
ہمارے حکمرانوں کو بھی اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مکار دشمن کبھی دوست نہیں ہو سکتا۔اب شاید غزوہ ہند کا بھی وقت آچکا ہے اس کی اس کا مختصر احوال یوں ہے ”صدیوں پہلے احادیث مبارکہ میں خراسان اور غزوہ ہند کے بارے پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کو قدیم زمانے میں خراسان کہا جاتا تھا۔ اس میں پہلے وہ تمام علاقہ شامل تھا جو اب افغانستان ہے جبکہ یہ ملک مشرق میں بدخشاں تک پھیلا ہوا تھا اور اس کی شمالی سرحد دریائے جیحوں اور خوارزم تھے۔ نیشاپور، مرو، ہرات اور بلخ اس کے دارالحکومت رہے ہیں۔ قدیم زمانہ کے خراسان کا جو حصہ ایران میں شامل ہے وہ اب بھی اپنے اصل نام کے ساتھ موجود ہے لیکن اسے تین صوبوں جنوبی خراسان، شمالی خراسان اور رضاوی خراسان میں تقسیم کر دیا گیا ہے جبکہ مالاکنڈ ڈویژن سمیت شمالی پاکستان کے مختلف حصے بھی خراسان کا حصہ رہے ہیں۔ اس وقت پوری د±نیا میں خراسان نام کے کسی ملک کا وجود نہیں ملتا لیکن صدیوں پہلے یہ ملک افغانستان، ایران، پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک پھیلا ہوا تھا۔ یقیناً آج کا پاکستان ہی خراسان ہے جو پاکستان اور اسلام کے بدترین دشمن کی موت بن سکتاہے ۔اب ترانے بجنے لگے ہیں ،بنئے پر ایک شدید اور پوری قوت سے یلغار کی ضروت ہے۔ہمیں بھارت کی کل ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہوگی اس نے پاکستان کی طرف سے بڑھائے ہوئے دوستی کے ہاتھ کو ہمیشہ بری طرح جھٹکا ہے۔ آخر ہمارے حکمران بھارت سے کب تک امن کی بھیک مانگتے رہیں گے،اپنے پانی کی واگزاری اور کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرتے رہیں گے؟
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو
#PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment