Tuesday, November 21, 2017

دور جدید سائبر وار

کسی دور میں خفیہ ایجنسیوں کے سیکرٹ ایجنٹ مختلف بھیس بدل بدل کر اپنے دشمن ملک کا ڈیٹا اور قومی سلامتی کے متعلق دستاویزات حاصل کرتے تھے اور اس پر حکومتوں کا کروڑوں روپیہ خرچ ہوتا تھا جبکہ ایجنٹ کی جان بھی خطرے میں ہوتی تھی اور پکڑے جانے کی صورت میں ملک کی بدنامی کا ڈر علیحدہ ہوتا تھا۔ اب یہ کام محض ایک کمپیوٹر پر بیٹھ کر پروگرامر باآسانی کرسکتا ہے جسے حرف عام میں ہیکر کہا جاتا ہے۔

 اِس طرح نہ جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے اور نہ ہی اس ملک کی بدنامی ہوتی ہے کیونکہ اگر کسی بھی طرح ملک کا نام آجائے تو یہ کہہ کر باآسانی بچا جاسکتا ہے کہ یہ تو کسی شخص کی انفرادی کارروائی ہے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اگر ہم اسے بڑے تناظر میں دیکھیں تو یہی ہمیں سائبر وار فیئر کی جانب لے جاتی ہے۔ جب ایک ملک دوسرے ملک کے قیمتی رازوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے تو کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے وہ اس کے کمپیوٹر نظام کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔ اس کی مثال ایک خیالی منظر نامے سے دیتا ہوں۔

فرض کریں ایک طرف ایک انتہائی چھوٹا اور دفاعی اعتبار سے کمزور ملک مالدیپ ہے اور دوسری طرف ایک دفاعی اعتبار اور ایٹمی صلاحیت سے لیس امریکہ ہے، دونوں ممالک کا کسی بات پر تنازعہ ہوجاتا ہے اور جنگ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ تمام تر کمزوری کے باوجود اُس کے پاس دنیا کے چند بہترین کمپیوٹر پروگرامرز کا گروپ ضرور موجود ہے جو ہیکنگ میں مہارت رکھتا ہے۔

 وہ مالدیپ میں بیٹھے بیٹھے امریکہ کے کمپیوٹر نظام میں داخل ہوکر اسے مکمل طور پر ہیک کرلیتے ہیں اور ان کے ایٹمی اثاثوں کے کمپیوٹر نظام میں بھی داخل ہوکر اس کا مکمل کنٹرول بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ پھرساتھ ہی امریکہ کے بجلی کے نظام کو بھی تباہ کردیتے ہیں جو انٹرنیٹ سے منسلک ہے اور پورا امریکہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے، ساتھ ہی ساتھ تیسرا کام وہ یہ کرتے ہیں کہ تمام بینکوں کے کمپیوٹر نظام کو بھی ہیک کرکے امریکہ کو معاشی طور پر بھی مفلوج کر دیتے ہیں۔

سوچیے کہ ایک طرف امریکہ جیسی ملک  اور دوسری طرف ایک انتہائی کمزور ملک جس کے چند کمپیوٹر پروگرامرز جو محض چند منٹوں میں امریکہ کے تمام تر کمپیوٹرنظام پر کنٹرول حاصل کرکے اس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتے ہیں تو سوچیے کیا ہوگا؟

یہ منظر کسی ہالی ووڈ کی فلم کا نہیں ہے بلکہ حقیقتاً امریکا اور کئی اور ممالک کو ایسے سائبر اٹیک کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں امریکہ کے الیکٹریکل گرڈ کو چین اور روس نے مل کر نشانہ بنانے کی کوشش کی اور یہ بات امریکہ کی وفاقی حکومت نے خود مانی ہے اور اس کو امریکہ پر سائبر اٹیک قرار دیا ہے۔
 جبکہ دوسری جانب چین اور روس نے اس الزام کو ماننے سے انکار کردیا ہے، اسی طرح جولائی 2010 میں ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ملکر ایران کے ایٹمی پروگرام کے کمپیوٹر نظام میں اسٹکس نیٹ (stuxnet) نامی وائرس کو ڈالا جس نے تقریباً 1000 نیوکلئیر سینٹر فیوجز کو تباہ کردیا، جس کی وجہ سے ایران کو اپنا نیوکلیئر پروگرام 2 سال کے لیے بند کرنا پڑا اور اس کی جوابی کارروائی کے طور پر ایران نے 2012 میں امریکہ کے بینکنگ نظام کو ہیک کرلیا اور اس کو تاریخ کی پہلی سائبر جنگ کے طور پر لیا جاتا ہے۔

سائبر وار کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اِس کو سمجھنا بہت ہی مشکل ہے کہ یہ سائبر حملہ کسی ملک کی طرف سے کیا گیا ہے یا پھر اس کے پیجھے کوئی انفرادی شخص تھا۔ اسی وجہ سے اس کی حساسیت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

No comments:

Post a Comment