پلوٹونیم ری ایکٹر ایک ایسا کارخانہ ہوتا ہے جس میں ایٹم بم میں استعمال ہونے والا خطرناک ترین مواد “پلوٹونیم” تیار کیا جاتا ہے۔
۔
پلوٹونیم کی تیاری کیسے ہوتی ہے؟
پلوٹونیم کی تیاری یورینیم U-235 کی Pu-235 میں transmutation (ایک کیمیکل ایلیمنٹ کے آئسوٹوپ کا دوسرے کیمیکل ایلیمنٹ آئسوٹوپ میں تبدیل ہونے کا عمل) کے عمل کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لئے یورینیم کے ایٹمزU-235 پر انفرادی طور پر neutron برسایا/داخل کیا جاتا ہے۔
۔
کیا پلوٹونیم سے بنا ایٹم بم یورینیم سے بنے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے؟
جی ہاں! پلوٹونیم سے بنا ایٹم بم یورینیم سے بنے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک اور طاقتور ہوتا ہے۔
۔
پاکستان کے دفاع سے متعلق پلوٹونیم ری ایکٹرز کا کردار: پاکستان میں اس وقت 4 پلوٹونیم ری ایکٹر مکمل طور پر آپریشنل ہیں جبکہ بھارت کے پاس صرف ایک پلوٹونیم ری ایکٹر ہے۔ پاکستان اس وقت ایک سال میں اندازاً 20 پلوٹونیم سے بنے ایٹمی وارہیڈ تیار کر رہا ہے جبکہ بھارت اس معاملے میں ہم سے بہت پیچھے ہیں۔ بھارت اپنے واحد پلوٹونیم ری ایکٹر میں سال میں صرف 5 عدد پلوٹونیم سے بنے ایٹمی وارہیڈ بنانے کے قابل ہے۔
ایٹمی ہتھیاروں کی کثیر تعداد اُن ہتھیاروں کی سیکیورٹی اور ملکی سرحدوں کی سیکیورٹی کو یقینی بناتی ہے۔
۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور رسول اللہ ﷺ کی نظرِ خاص ہے کہ آج پاکستان جیسا دنیا کا واحد ترقی پزیر ملک دنیا کی سب سے حیرت انگیز اور پیچیدہ ترین ایٹمی ٹیکنالوجی رکھتا ہے جس کے معیار اور قابلیت نے ترقی یافتہ اور خود کو سپر پاورز کہنے والے ممالک کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔
خدا کی قسم اگر ماضی میں خدا تعالیٰ نے ابابیلوں کے لشکر کے ذریعے اپنے گھر کی حفاظت کی تھی تو اب اس مقصد کے لئے خدا وندِ کریم نے پاک فوج اور پاکستان کو چنا ہے، یہی اس کی ایٹمی صلاحیت کا راز ہے۔

No comments:
Post a Comment