تب ہی اسے سمجھ لگ گئی تھی کہ اگر دنیا میں اپنا مقام اونچا رکھنا ہے تو جدید سے جدید تر اسلحہ کا حامل ملک بننا ہوگا۔
لہٰذا اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی ایئر فورس کے فائیو سٹار جنرل ہینری نے ایک تھنک ٹینک بنانے کا فیصلہ کیا جس میں ملک بھر سے قابل دماغ رکھنے والوں کو اکٹھا کیا گیا ، اس گروپ کا واحد کام محض جدید اسلحہ کی ایجاد تھی ، کچھ عرصۂ میں ہی یہ تنظیم اتنی مضبوط اور مقبول ہوگئی کہ ملک بھر سے قابل سائنسدان اس کا حصّہ بننے لگے ، وہ تنظیم جس کا مقصد محض جدید اسلحہ سازی تھا اب آگے بڑھ کر امریکہ کے بین الاقوامی تعلقات سے لیکر تعلیم اور صحت کے منصوبوں پر بھی کام کرنے لگی اور آج کی تاریخ میں اسے امریکہ کا دماغ کہا جاتا ہے۔
اگر آپکو یہ لگتا ہے کہ خلا میں جانے کا سہرا "NASA" کے سر جاتا ہے یا پھر جدید کمپیوٹر بنانے کا سرا "IBM " کے سر جاتا ہے تو اپنی رائے بدل دیجئے کیوں کہ راکٹ سائنس میں انقلابی تبدیلی لانے کا سہرا رینڈ کارپوریشن کے سر جاتا ہے کہ جب اس نے سوویت یونین پر نظر رکھنے کے لئے۔
۔ CORONA۔ نامی پہلا سیٹلائٹ لاؤنچ کیا ۔
جس نے ایک ہو ماہ میں اتنی زیادہ تصویر جاری کیں جو امریکی جاسوس طیارے پچھلے چار سال میں نا جاری کر سکے تھے ، جب کہ انٹرنیٹ اور جدید کمپیوٹر کا آئیڈیا بھی اسی تنظیم کے ایک سائنسدان کا تھا۔۔ جس نے یہ آئیڈیا اس غرض سے دیا تھا کہ اگر سوویت یونین نے ایٹمی حملہ کردیا اور ہمارا ٹیلی کامیونکیشن کا نظام تباہ ہوگیا تو ہم کیا کریں گے ؟
جس کے جواب میں ان سائنسدانوں نے پاکٹ میسیجز کا آئیڈیا دیا جو کہ اس وقت کی لیڈنگ ٹیلی کمیونیکشن کمپنی AT&T نے محض اسلئے رد کردیا کیوں کہ وہ کاروباری مسابقت نہیں چاہتی تھی پر آگے جاکر یہی آئیڈیا انٹرنیٹ کی بنیاد بنا .
اگر آپ کارٹون شوق سے دیکھتے ہیں تو یقیناً پاور پف گرلز اور اسی طرح کے دیگر کارٹونز کے نام بھی سن رکھے ہوں گے جس میں ایک کردار ہمیشہ دنیا کو تباہ کرنے کے طریقے سوچتا رہتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ کہ دنیا کی تباہی کے تقریباً یہ تمام منصوبے رینڈ کارپوریشن کے آئیڈیاز سے ہی نکلتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب سرد جنگ زوروں پر تھی اور امریکہ کو یہی خطرہ تھا کہ صبح نہیں تو شام کو سوویت یونین ایٹمی حملہ کردے گی۔
لہٰذا اس صورتحال کے آنے سے قبل ہی امریکہ کا یہ دماغ یعنی رینڈ کارپوریشن ایسے آئیڈیاز پیدا کرتا رہا کہ کیسے ساری دنیا تباہ ہوجاۓ اور صرف امریکہ ہی دنیا میں باقی بچے ، پر کسی نہ کسی سائنسدان کی مخالفت یا متبادل پلان آجانے پر وہ منصوبہ رد ہوجاتا ۔
رینڈ کارپوریشن امریکی فوج اور سی آئی اے کا ہمیشہ سے ہراول دستہ رہی ہے ، اسی کارپوریشن نے LSD نامی دوا کو سی ائی اے کو دیا جس نے اسے بعد ازاں پروجیکٹ MKultra کی بنیاد رکھی جس میں عوام کے دماغوں کو کنٹرول کیا گیا ، یہ پروجیکٹ کوئی 20 یا 30 سال تک چلتا رہا ۔
اب اس کا استعمال کہاں کہاں کیا گیا یہ ایک پیچیدہ سوال ہے ، کیوں کہ ان 20 ، 30 سالوں میں دنیا میں نجانے کتنے ہی ایسے مشکوک فیصلے کئے گئے جو آج تک ایک سوالیہ نشان ہیں اگر صرف پاکستان میں ہی دیکھیں تو لیاقت علی خان کا سوویت کے بجائے اچانک امریکہ کی طرف جھکاؤ سے لیکر ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی اور پھر ضیاء الحق کی ناگہانی موت تک ایک سوالیہ نشان ہیں۔
کچھ وقت قبل رینڈ کارپوریشن کے ایک اہم ممبر ازبگنو برزنسکی جو کہ امریکی صدر لینڈن کا ایڈوائزر اور اسکے بعد امریکی صدر جمی کارٹر کا نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر بھی رہ چکا تھا اس کا ستر کی دہائی میں دیا گیا بیان پڑھ رہا تھا۔
جس میں اس نے کہا کہ " ذاتی زندگی اب ماضی کا حصّہ ہے سنہ 2000 تک کسی امریکن کی ذاتی زندگی اہمیت نہیں رکھے گی اور امریکی ریاست کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے ہر شہری کی ہر معلومات رکھے "
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ برزنسکی کی پیشن گوئی 2001 کے امریکی ٹوئن ٹاورز پر ہونے والے حملے کے بعد کیسے سچ ثابت ہوئی ۔
جب کہ ایک اور جگہ کسی سابق امریکی سیکورٹی ایکسپرٹ کا بیان شائع ہوا جس میں اس نے تسلیم کیا کہ امریکہ کو دہشتگردوں سے نہیں بلکہ سنوڈن جیسے افراد سے خطرہ ہے جو امریکی رازوں کو دنیا کے سامنے آشکار کر رہے ہیں .
آج کی تاریخ میں کوئی سافٹ ویئر ہاؤس ہو یا امریکہ کا خلائی پروجیکٹ NASA ہو یہ سب رینڈ کارپوریشن کی شاخیں ہیں ۔
وہ رینڈ کارپوریشن جس کا موٹو امریکہ فرسٹ ہے انکا اولین مقصد محض امریکی مفادات کا تحفظ ہے پھر آپ بھلے ان کے مارس میں پانی تلاش کرنے کو انسانیت کی خدمات سمجھیں جب کہ انکی ٹیکنالوجی اور خطرناک اسلحہ سے ہونے والے دنیا کے نقصان کو جاہلوں کی طرح نظر انداز کرتے جائیں . اور ہاں رینڈ کارپوریشن میں 32 ایسے لوگ ملازمت کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں جنہیں سائنسی فیلڈ میں نوبل انعام ملا ہے جب کہ دوسری جانب پوری مسلم دنیا میں صرف 5 لوگ ایسے ہیں جنہیں کسی سائنسی خمت پر نوبل انعام ملا ہو !!
بہرحال یہ تو تھا وہ تھنک ٹینک جس نے امریکہ کو اب تک دنیا میں سپر پاور بنا کر رکھا ہوا ہے ، دوسری جانب ذرا آجائیے اپنے ملک پاکستان میں خود کو سب سے اعلیٰ دماغ سمجھنے والوں کی طرف۔۔۔
سننے میں آیا ہے کہ پاکستان کے فارمی لبرل طبقہ کے سرخیلوں نے لندن میں ایک پارٹی کا اہتمام کیا ، کئی گھنٹہ اسی پر سر کھپاتے رہے کہ قادیانیوں کو پاکستان میں مسلمان کیسے قرار دلوایا جاۓ اور پھر پاکستان کے نام کے ساتھ لگا " اسلامی " کونسی سائنسی ایجادات کے آڑے آرہا ہے ، کون سا مدرسہ ایسا ریڈار یا جیمر لگا کر بیٹھا ہوا ہے جو ھود بائی کے راکٹوں کو خلا میں نہیں جانے دے رہا ؟ اور وہ کون سی توانائی ہے جو تب ہی حاصل ہوسکتی ہے جب عورت کا لباس کم سے کم ہوگا ؟
بہرحال آخر میں سب نے مختلف گانوں میں ڈانس کیا مہنگی شراب پی اور محفیل ختم ہوگئی ۔
جناب ۔۔۔
ممالک اسلئے ترقی پذیر نہیں ہوتے کہ وہاں مذہب کا عمل دخل ہے ، ممالک اسلئے ترقی پذیر ہوتے ہیں کہ جب سائنسی علوم رکھنے والے اپنی فیلڈ میں کام کرنے کے بجائے ہر وقت مذہب کو کوسنے میں لگے رہیں۔
لہٰذا ہماری بھلے نا سنئے کم سے کم اپنے مائی باپ امریکہ کی ترقی کی وجہ ہی دیکھ لیجئے !!

No comments:
Post a Comment