Wednesday, November 08, 2017

K 2 کے ٹو خوف اور دہشت کی علامت

- دنیا کی اونچی ترین چوٹیوں میں سے دوسرے نمبر پر ۔ ۔۔۔ نا صرف اونچی بلکہ خطرنات ترین چوٹی بھی کے- ٹو کو سمجھا جاتا ہے ۔ماونٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے جو کہ نیپال اور تبت میں ہے ۔
آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ کیا عوامل ہیں K-2 کو سر کرنے کے لیے زیادہ حوصلے اور مضبوط اعصاب کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔

۔1- K-2 پہاڑ پر سرنگ نما اور اہرام نما تکونیں موجود ہیں جو کہ ماہرین کے نزدیک کوہ پیمائی میں سب سے دشوار گزار علاقے ہوتے ہے ۔

2- ماونٹ ایوریسٹ کے مقابلے میں K-2 پر چڑھنے کے لیے روٹ بہت لمبا ہے ڈھلوانیں خطرناک اور پچیدہ ہے ۔ یعنی آپ بالکل سیدھا چوٹی پر نہین پہنچ سکتے آپ کو مختلف روٹ اپنانے پڑتے ہیں

3- بچپن میں جب ہم ڈرائینگ کے لیے پہاڑ بناتے توانگریزی کے لفظ A کی طرح بناتے ۔ K-2 کی چوٹی بالکل A جیسی ہے۔

4- یہاں برفانی طوفان اور لینڈ سلائیڈنگ بالکل عام سی بات ہے ۔ موسم انتاہی سخت اور بدلنے میں بالکل دیر نہیں لگتی ۔ جس کی وجہ سے یہ اور خطرناک ہو جاتا ہے ۔

5- ماونٹ ایوریسٹ ایک کمرشل چوٹی بن چکی ہے ، 4000 سے زائد لوگوں نے اس کو سر کیا ہے ، لیکن K-2 کو ابھی تک 284 لوگوں نے سر کیا ہے ۔

6- کے-ٹو پر شرح اموات بہت زیادہ ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ شرح اموات نانگا پربت پر ہیں۔ اس کے بعد K-2 کا نمبر ہے ۔ یہاں شرح اموات تقیبا 30٪ ہے ۔

7- پوری دنیا میں دو چوٹیاں ایسی ہیں جن کو سردیوں میں سر نہیں کیا جا سکا۔ آج تک کسی انسان نے ان کو سردیوں کے موسم میں سر نہیں کیا۔ ایک نانگا پربت پے اور دوسری K-2 ۔۔ دونوں پاکستان میں ہیں ۔

8- کے-ٹو کے بیس کیمپ پر پہنچنا ہی مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے ۔ 50٪ سے زائد لوگ بیس کیمپ سے ہی واپس لوٹ جاتے ہیں ۔ کے-ٹو پر چڑھنا تو بعد کی باتیں ہے ۔
ان سب باتوں کے باوجود پروفیشنل یا پیشہ ور کوہ پیماووں کے نزدیک K-2 کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ سر ہو سکے ۔

No comments:

Post a Comment