Tuesday, December 05, 2017

پاکستان نے 1974ء میں   بھارتی ایٹمی پروگرام کی جاسوسی کے لئے پی-آئی-اے کے طیاروں کو استعمال کیا

1974ء میں جب بھارت نے زیرِ زمین ایٹمی دھماکے کیے تو پاکستان نے ان دھماکوں کی نوعیت اور بھارت کے ایٹم بم میں استعمال ہونے والے مرکبات کی خصوصیات اندازہ لگانے کے لئے پاکستانی سائنسدانوں نے ایک انوکھی ترکیب کا سہارا لیا۔ اس مقصد کے لئے پاکستان کی کمرشل ائیرلائن پی-آئی-اے کو استعمال کیا گیا۔ درحقیقت ایٹمی دھماکہ ہونے کے بعد ایٹم بم میں استعمال ہونے والے مرکبات کچھ عرصے کے لئے ہوا میں معلق رہتے ہیں اور ہواؤں کے رخ بدلنے کی وجہ سے وہ مرکبات فضاء میں دور دور تک پھیل جاتے ہیں۔اس صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پی-آئی-اے کی بھارت میں جانے والی فلائٹس کی باڈی پر ایک خاص قسم کے خفیہ مرکب کا لیپ کیا گیا تاکہ فضاء میں موجود ایٹمی دھماکے کے ذرّات طیارے کے بیرونی حصے سے چپک جائیں اور  ہواؤں کے رُخ کو بھانپتے ہوئے یہ اندازہ لگایا گیا کہ فضاء میں پھیلا ایٹمی دھماکے کا مواد کن کن علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ بعد ازاں ان کمرشل طیاروں کو بھارت کے انہی علاقوں سے گزارا گیا اور بھارت کے کیے گئے ایٹمی دھماکوں کے ذرّات کے نمونے باآسانی حاصل کر لئے گئے۔  بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس دوران پی-آئی-اے کے بعض طیارے دانستہ طور پر بھارت کے اس علاقے کی فضائی حدود میں داخل ہو گئے  جہاں ایٹمی دھماکے کا مقام قریب تر تھا اور بھارتی حکام کے وجہ پوچھنے پر طیاروں میں فنی خرابی اور طیاروں کے نیوی گیشن سسٹم میں خرابی بتا کر انہیں خاموش کروا دیا گیا۔بعد ازاں ایٹمی دھماکے سے متعلق حاصل ہونے والے نمونوں کی کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری میں نامور ایٹمی سائنسدانوں کی نگرانی میں جانچ پڑتال کی گئی اور بھارت کے ایٹمی دھماکے سے متعلق حیرت انگیز حد تک خفیہ معلومات حاصل کی گئیں جنہیں کسی اور ذریعے سے حاصل کرنا اس وقت تقریباً ناممکن تھا۔

No comments:

Post a Comment