سیکنڈ سٹرائیک کیپبلٹی کیا ہے اور پاکستان کے دفاع میں اس صلاحیت کا کیا کردار ہو سکتا ہے یہ وہ دو سوال ہیں جن کا جواب اکثر لوگ جاننا چاہتے ہیں۔اصل میں سیکنڈ سٹرائیک کیپبلٹی کا مطلب ہے ایٹمی حملہ کرنے کی دوہری صلاحیت، مطلب خدانخواستہ اگر کوئی ملک ہمارے ملک پر پہلے ایٹمی حملہ کر کے اسے مکمل طور پر تباہ کردے تو پاکستان جوابی حملہ کر سکتا ہے، جوابی حملہ مختلف پلیٹ فارمز سے دیا جا سکتا ہے۔جیسے کہ زیر سمندر موجود آبدوزوں کے ذریعے یا پھر زیرِ زمین نیوکلیئر سائلس، اس وقت پاکستان نیوی کے پاس کوئی بھی ایٹمی آبدوز موجود نہیں مگر پاک نیوی بابر 3 کروز میزائل آگوسٹا آبدوز سے فائر کرکے دشمن پر ایٹمی حملہ کر سکتی ہے اس میزائل کا تجربہ کچھ عرصہ پہلے کیا گیا تھا، بابر 3 میزائل کی رینج 450 کلومیٹر بتائی گئی ہے.ایٹمی حملہ کرنے کی اس دوہری صلاحیت جو کہ بابر 3 کی شکل میں ہے سے پہلے بھی پاکستان ایسے حملے کی اہلیت یعنی “ایٹمی حملہ کرنے کی دوہری صلاحیت” رکھتا تھا، پاکستان جانتا تھا کہ امریکہ ایسا اقدام اٹھا سکتا ہے جس سے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو شدید نقصان پہنچتا، کیونکہ ماضی میں بھی اسرائیل اور بھارت کی طرف سے ایسا اقدام اٹھایا گیا تھا مگر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی- ایس – آئی دشمن کی ان خفیہ اور خطرناک چالوں سے پوری طرح با خبر تھی، پاک فضائیہ کے جوابی حملے کے ڈر سے دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔ان سب معاملات کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے یہ صلاحیت حاصل کر لی تھی کہ وہ زمین کے اندر سے بیلسٹک میزائلوں کو لانچ کر کے دشمن پر جوابی وار کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ مستقبل قریب میں پاکستان باقاعدہ طور پر بین البراعظمی میزائیلوں کے تجربات کرے گا جو کہ مختلف رینج کے ہوں گے، ان میزائلوں کو بھی زمین کے اندر سے لانچ کیا جا سکے گا اور یہ مزائل یورپ میں موجود پاکستان کے دشمنوں کے لئے کافی ہوں گے۔اس کے علاوہ نہ صرف پاکستان نیوی کے زیر استعمال بابر 3 کی رینج میں بھی اضافہ کیا جائے گا، بلکہ مزید جدید اور لمبے فاصلے تک مار کرنے والے ایسے میزائل بھی بنائے جائیں گے جو کہ مستقبل میں چین سے حاصل کردہ اسٹیلتھ آبدوزوں سے فائر کیے جا سکیں گے، جس کے بعد نیوی اس قابل ہو جائے گی کہ بھارت سمیت تمام دشمن ممالک کو مکمل طور پر اپنے ایٹمی میزائلوں سے تباہ کر سکے۔اس کے علاوہ، خیال کیا جا رہا ہے کہ کچھ عرصہ تک پاکستان چین سے ایک ایٹمی آبدوز بھی حاصل کرے گا اور بعد میں تعداد میں اضافہ کیا جائے گا کیونکہ ادھر بھارت اپنی نیوی کو دو ایٹمی آبدوز یں فراہم کرچکا ہے جبکہ مزید چھ ملکی سطح پر بنانے جا رہا ہے یوں پاکستان کے لیے بھی لازم ہوچکا ہے کہ وہ اپنی نیوی کو اس خطرناک ہتھیار سے لیس کرے۔یاد رھے کہ اس وقت بھی پاکستان کے پاس اتنی طاقت ہے کہ بھارت کا ہرشہر تقریبا 5 مرتبہ تباہ کر سکتا ہے اور سابقہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف یہ بات کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے بغیر بھی بھارت کو عبرتناک شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

No comments:
Post a Comment