پہلی تصویر میں یروشلم میں مسجد اقصی کے سامنے خلافت عثمانیه کی افواج کی سو سال پہلے دسمبر1917 کی وہ آخری پریڈ جس کے کچھ ہی لمحوں بعد اتحادی افواج کا بیت المقدس میں دخول اور قبضہ ہو گیا....اس ناکامی کی صرف ایک وجہ تھی کہ برطانوی خفیہ اداروں نے پھدو عربوں میں قوم پرستی کی یہ آگ جلا دی کہ تم عرب تو ترکوں سے نسلا برتر ہو اور تم لوگوں نے ہی دنیا فتح کی جبکہ یہ کم نسل ترک تم پر حاکم بنے بیٹھے ہیں اور تم پر کیا اس سے بھی برا وقت آ سکتا ہے کہ سالے کمی کمین ترک کو تمہیں سلام کرنا پڑتا ہے!! عرب ایسا بتورا ہوا کہ اب تک ہوش میں نہیں آیا اور اسی لئے مار بھی لگاتار کھا رہا اور کھائے گا کہ اسکی سب فتوحات تو اسلام کو اپنا کر ہی ہوئی تھیں ورنہ نسل اسکی تو اسلام سے پہلےانتہائی کمتر سمجھی جاتی تھی...حقیقت کیا تھی کہ خلافت عثمانیہ کی متحد مسلم افواج کے عرب ، فارسی، ترک، و افریقی جرنیل اپنے اتحاد اور یکجہتی کی وجہ سے وہ خوفناک قوت ہوا کرتے تھے جو اس وقت پورے شرق اوسط، آدھے افریقہ و پورے مشرقی یورپ پر قابض ہوا کرتی تھی...تھمتا نہ تھا کسی سے وہ سیل رواں ہمارا....بس یہی اتحاد ہی تو توڑنا تھا سو نسل پرستی کے زہر سے خوب ٹوٹا..جبکہ اسی اتحاد کے درس کو نصرانی یورپ نے اپنا کر نیٹو اتحاد بنالیا...
دوسری تصویر میں نام نہاد "سیکولر" برطانیه کا جنرل ایلن بی جب یروشلم پر قبضے کیلئے داخل ہوا تو گھوڑے سے اتر گیا کہ یہ اسکے عقیدے کے مطابق "شہر مقدس " کی بے حرمتی ہوتی...
تیسری تصویر میں "سیکولر" امریکی اخبارات نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی فتح یروشلم کے ٹھیک 673 سال بعد اس کی "آزادی" کو عیسائی دنیا کی تب تک کی عظیم ترین فتح قرار دیا جس کی خوشی پورے امریکہ و یورپ میں نصرانی مذہبی فتح کے طور پر منائی گئی...
خود قوم پرستی چھوڑ کر وہ لوگ ایک نظریے پر اکٹھے ہو کر کامیاب ٹھہرے اور مسلمان احمقوں کو نسل کی پوجا پر ایسا لگایا کہ ہر مسلم ملک اس زہر سے اب تک تڑپ رہا ہے ....چاہے عراق و ایران و ترکی میں کرد قوم پرستی ہو یا پاکستان و ایران میں بلوچ نسل پرستی یا اور دیگر اسی قسم کے زہر جیسے اچکزئی وغیرہ کے زریعے پھیلائے جاتے ہیں!!



No comments:
Post a Comment