Friday, January 19, 2018

جاپان کے ایٹمی حملوں میں زندہ بچ جانے والا خوش قسمت انسان !

انسانی تاریخ میں بربریت اور ظلم کی داستانیں تو لاتعداد ہیں جن کی جتنی زیادہ مذمت کی جائے کم ہے۔ کسی بے گناہ انسان کا قتل عام کرنا حیوانیت تو ہوسکتا ہے انسانیت سے اس کادور دور تک واسطہ نہیں۔

6 اگست 1945ء دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ بدقسمت دن ثابت ہوا جب جدید تہذیب و تمدن کے نام نہاد علمبردار امریکہ نے B29 نامی جنگی طیارے کو استعمال کرتے ہوئے ’#_لٹل_بوائے ‘ نامی پہلا ایٹم بم گرا کر جاپانیوں پر قیامت برپا کردی تھی۔
جاپان کے شہر ہیرو شیما پر ہونے والے اس ایٹمی حملے نے ایک لاکھ چالیس ہزار لوگوں کو لقمہ اجل بنا دیا۔ ہزاروں لوگ جسمانی اعضاء سے معذور ہوئے اور اپاہج ہوکر زندہ لاشیں بن کر رہ گئے۔ ہیروشیما پر ڈھائے جانے والے ظلم کے ٹھیک 3 دن بعد امریکہ نے جاپان کے ایک اور بدقسمت شہر #_ناگاساکی پر ”#_فیٹ_بوائے “ نامی ایٹم بم گرا کر مزید 70 ہزار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

بدقسمت جاپانیوں پربرپا کیے جانے والے اس ظلم نے انسانیت کو شرمندہ کردیا تھا۔ ایک طویل عرصے تک ہیروشیما اور ناگا_ساکی کے طویل مضافات میں تابکاری کے اثرات انسانی بیماریوں کا باعث بنتے رہے۔ کئی لاکھ لوگ ہاتھ، پاﺅں، آنکھوں اور دوسرے جسمانی اعضاء سے معذور ہو کر زندہ لاشیں بن کر رہ گئے۔

انہی زندہ لوگوں میں سے ایک 86 سالہ #سمٹرو_تانی_گوچی بھی ہیں۔
جاپان پر ہونے والے ایٹمی حملوں کے وقت ان کی عمر محض 16 سال تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایٹم بم گرنے کی جگہ سے وہ 1 میل کے فاصلے پر اپنی سائیکل پر سوار کہیں جا رہے تھے دھماکہ ہوا تو وہ اپنی سائیکل سے اڑ کر بہت دور جاگرے اور ایٹمی بارود کی وجہ سے شدید زخمی ہوئے۔
ان کے پورے جسم سے گوشت کے ٹکڑے کٹ کر کئی جگہوں پر زخم ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ منظر بہت ہولنا ک تھا ایسے لگتا تھا جیسے قیامت واقع ہوگئی ہو ، میں و ہ بھیانک ترین وقت کبھی نہیں بھلا سکتا جب اس قدر شدید زخمی ہو کر کربناک حالت میں 3 دن تک بغیر مدد کے بھٹکنا پڑا تھا۔

اس کے بعد مجھے ریسکیو کرکے ہسپتال لے جایا گیا، تانی گوچی کا کہنا ہے کہ جب مجھے بیڈ پر لٹایا گیا تو نرسیں حیران تھیں کی میری سانسیں ابھی تک چل رہی تھیں، میری حالت اس طرح تھی کہ پیٹ، کندھے، بازو اور ٹانگوں سے گوشت پھٹ گیا تھا۔ جسم کے پچھلے حصے سے شدید زخمی ہونے کی بنا پر میں تقریباً 21 ماہ تک اپنے پیٹ کے بل لیٹا رہا تھا۔

ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے جانے کو 70 سال گذر چکے ہیں لیکن تانی گوچی ابھی تک اس حملے کی کربناکی سے باہر نہیں نکل پائے۔ ان کی کمر ، پیٹ ، بازو اور جسم کے دوسرے حصے پر زخموں گہرے نشانات ہیں جو دیکھنے والوں کیلئے حملوں کی وحشت اور بربریت کا ثبوت ہیں۔
ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے خوش قسمتی سے زندہ بچ جانے والے تانی گوچی نے ایٹمی حملوں سے دنیا کو بچانے کیلئے زندہ بچ جانے والے مزید لوگوں پر مشتمل ایک گروپ بھی بنایا جس کے زریعے انہوں نے دنیا کو باور کروانے کی کوشش کی کہ ایٹمی اسلحہ انسانوں کا قاتل ہے۔ اس سے دنیا کو پاک کرنا بہت ضروری ہے تاکہ اربوں انسانوں کی زندگیوں کو تحفظ حاصل ہوسکے۔

اس سال 6 اگست کو جاپان میں ایٹمی حملے کے نتیجے میں مرنے والوں کی یاد کیلئے کی جانے والی ایک تقریب میں تانی گوچی نے دنیا بھر کو پہلی بار یہ زخم کے نشانات دکھائے اور انہیں پیغام دیا کہ وہ انسداد ایٹمی اسلحہ کے سلسلے میں انفرادی اور اجتماعی طور اپنی کوشش کریں۔

No comments:

Post a Comment