Wednesday, January 17, 2018

"ٹینکوں کی تاریخ اور پاکستان آرمی کے مین بیٹل ٹینک

پہلی جنگ عظیم کے وقت پہلی بار کھلے میدان میں ٹینکوں کو بطور ہتھیار آزمایا گیا۔اس وقت ہر ملک نے یہ محسوس کر لیا کہ ٹینک مستقبل میں میدان جنگ کا سب سے اہم ہتھیار ثابت ہوں گے۔اس وقت جرمنی اور امریکا دنیا کے سب سے بھاری ٹینک تیار کر رہے تھے۔ ٹینکوں کی اہلیت کے حوالے سے اگر تاریخ کے ورق الٹ کر دیکھا جاے تو پہلی جنگ عظیم کے اکثر ٹینک نشانہ اصل جگہ لگانے سے قاصر تھے۔لیکن اس کے بوجود ان کو میدان جنگ کا نا قابل شکست ہتھیار سمجھا جاتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں اس ہتھیار نے تاریخ رقم کی اور اس ہتیار سے دنیا کی ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئ۔شاید اسی وجہ سے اس لڑائ میں ہونے والی ہلاکتوں نے بھی تاریخ رقم کر دی۔ ٹینک کو ایک فولادی دیوار سمجھا جاتا ہے جس پر دشمن کے عام ہتھیار کا اثر نہیں ہوتا۔پاکستان آرمی دنیا کی وہ واحد آرمی ہے جو کم ٹینک ہونے کے بوجود دنیا کی ٹینکوں کی دوسری بڑی جنگ 1965میں جیت چکی ہے۔ پاکستان نے یہ جنگ اگرچہ جیت لی تھی لیکن اس جنگ میں ٹینکوں کی کمی کی وجہ سے پاکستان کو خاصا جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پاکستان نے اس کمی کو پر کرنے کے لیے 1966سے ہی چائنا سے ٹی-59 ٹینکوں کی ایک بڑی کھیپ خریدی اور اس کے بعد متواتر ان کی سپلائ ہوتی رہی۔ساتھ ہی افغان-روس سے فائدہ اٹھاتے ہوے پاکستان نے امریکا سے T_69 ٹینک کا بھی معاہدہ کر لیا۔ پاکستان آرمی کو بعد میں چائنا سے اپگریڈڈ T-85II ہیوی مین بیٹل ٹینک بھی ملے جن کو اس وقت امریکی ابراہم-I مین بیٹل ٹینک کے برابر کا سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان نے انڈیا کے T-72 کے توڑ کے طور پر اور سندھ کے صحرائ علاقے کے دفاع کے لیے یوکرائن کے بنے ہوے جدید T-84 لائیٹ ویٹ ٹینک خریدے۔ پاکستان کے پرانے ٹینکوں کو ریٹائرڈ کرنے کا مسلہ آڑے آیا تو ہیوی ٹیکسلا کے انجیئنیرز نے پرانے ٹی-59 ٹینکس کے انجن کی تبدیلی اور اس ٹینک میں جدید آلات نصب کر کے اسے ایک جدید ٹینک کی شکل دے دی جسے "الزرار مین بیٹل ٹینک" کے نام سے جانا جاتا ہے۔باقی پرانے ٹینکس کو وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے اس میدان میں ہمت نہ ہاری اور اکسویں صدی کے شروع میں ہی اپنا بنایا ہوا جدید ترین "الخالد مین بیٹل ٹینک" تیار کر لیا۔ الخالد ایم بی ٹی T-90 ٹینکس کی فیملی سے ہے۔یہ ٹینک 125mm مین گن سے لیس ہے اور کیمیائ حملے سے خد کو محفوظ رکھتا ہے۔لینڈمائن اس پر اثر نہیں کرتیں جبکہ یہ ٹینک ہر موسم اور ہر علاقے میں
استعمال کے لیے بہترین ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے یوکرائن کے ساتھ الخالد ٹینک کی اگلی نسل کے لیے نۓ انجن خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جبکہ پاکستان اپنے T-84 ٹینکوں کی جگہ یوکرائن کے جدید ترین اوپلوٹ(OPLOTE) ٹینک خرید کر تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ عنقریب پاکستان الخالد-2 ٹینکوں کے بننے کے فورا بعد اپنے الحیدر ٹینکوں کے پروجیکٹس کو شروع کرے گا جو کہ نئ نسل کے افزودہ یورینیم سے لیۓ گۓ ٹینک ہوں گے۔ پاکستان آرمی کی اس فیلڈ میں تیاری بھی بھرپور ہے۔

No comments:

Post a Comment