یوں تو مغرب عمومی طور پر مسلمانوں اور خصوصاً پاکستان کے لئے اچھے نظریات نہیں رکھتا لیکن بعض ایسی مثالیں بھی ہیں کہ جہاں مغرب میں بسنے والے پاکستان کے دوستوں نے اس ملک کے لئے انتہائی قابل فخر اور قابل تحسین خدمات سرانجام دیں۔ روس کے برف زار سائبیریا میں جنم لینے والے اور یورپی ملک پولینڈ کے شہری والڈی سلاف جوزف ماریان ٹروکز بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں کہ جنہوں نے نہ صرف پاکستان سے دوستی کی بلکہ اس دوستی کو انتہائی شاندار انداز میں نبھایا بھی۔
--------------------------
والڈی پاکستان کے خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو کے 1967ءسے 1970 تک ایڈمنسٹریٹر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ وہ پولینڈ کے ان 45 افسران میں سے ایک تھے کہ جو 50ءکی دہائی میں پاکستان میں خدمات سرانجام دینے کے لئے آئے لیکن انہوں نے واپس جانے کی بجائے پاکستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ والڈی نے چیف ایروناٹیکل انجینئر کے طور پر پاکستان کے میزائل اور راکٹ پروگرام کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے کراچی میں ایک ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ قائم کیا اورپاکستان ائیرفورس اکیڈمی میں چیف سائنٹسٹ کے فرائض بھی سرانجام دئیے۔
وہ ابتدائی طور پر ائیرفورس کے افسران کو تربیت فراہم کرنے کی ڈیوٹی پر معمور ہوئے۔ پاکستان ائیرفورس کی منٹیننس برانچ میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے وہ اسسٹنٹ چیف آف ائیرسٹاف کے عہدے تک پہنچے۔ 1966ءمیں انہیں خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو میں منتقل کردیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ان اہم شخصیات میں سے ایک تھے کہ جنہوں نے پاکستانی حکومت کو اس بات پر قائل کیا کہ خلائی تحقیق کا شعبہ پاکستان کی دفاعی ترقی کے لئے انتہائی اہم ہے اور خصوصاً راکٹ ٹیکنالوجی کے شعبے کے قیام کے لئے پاکستانی حکام کو قائل کیا۔
والڈی کو پاکستان کے خلائی تحقیق کے ادارے کی ترقی، پاکستان ائیرفورس کےلئے شاندار خدمات، اور پاکستان کی میزائل اور راکٹ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے جیسی اہم ترین خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ پاکستان، تمغہ پاکستان، ستارہ خدمت، ستارہ قائداعظم، ستارہ امتیاز ملٹری اور عبدالسلام ایوارڈ آف ایروناٹیکل انجینئرنگ جیسے ممتاز اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی وفات بھی جنوری 1980ءمیں کراچی میں ہی ہوئی۔#پاک_سولجرحفیظ

salute
ReplyDelete