عنزہ ہتھیار کو کندھے فائر کیا جاتا ہے جو ایک ایسے چھوٹے انفراریڈ مزائل کو فائر کرتا ہے جو 5 کلومیٹر کے دائرے میں موجود دشمن کے کسی بھی جہاز، ہیلی کاپٹر، کروز مزائل یا ڈرون کو مار گراتا ہے۔عنزہ کی سب سے جدید شکل MK-III ہے جو کہ بہتر رینج اور بہترین انٹرنل ڈیوائسز پر مشتمل ہے۔ یہ ہتھیار تین بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ “لانچر، مزائل اور بیٹری”۔ لانچر مزائل کو فائر کرتا ہے، مزائل اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بناتا ہے جبکہ بیٹری ٹارگٹ کو “لاک” کرنے کے لئے ٹارگٹ پر لیزر بیم فائر کرتی ہے۔ عنزہ کے پہلے version میں کچھ خامیاں تھیں جنہیں دوسرے اور تیسرے version میں دور کر کے اسے سستے اور بہترین ہتھیار کے طور پر متعارف کروا دیا گیا۔عنزہ کو پہلی بار 1998 میں کارگل جنگ میں استعمال کیا گیا اور بھارت کے 2 عدد جدید ترین روسی ساختہ طیارے مار کر گرا دئیے گئے۔ جن میں ایک Mig-21 جبکہ دوسرا Mig-27 طیارہ تھا۔ اس کے علاوہ دسمبر 2002 میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فضائیہ کے Antonov An-32 نامی ٹرانسپورٹر/ بمبار طیارے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ خوش قسمتی سے یہ طیارہ کریش لینڈنگ کر کے بچ نکلا۔پاکستان عنزہ کو ملائشیا، سعودی عرب، سری لنکا سمیت دُنیا کے کئی ممالک میں فروخت کرتا ہے۔ پاکستان کے اس موثر اور جدید ہتھیار کی طلب دُنیا کے کئی ممالک میں بڑھ رہی ہے۔بعض غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر پاکستان نے عنزہ ہتھیار افغان جنگ کے دوران امریکہ سے وصول کر کے افغان مجاہدین کو بھیجے جانے والے “سٹنگر” ہتھیاروں کی بنیاد پر ڈیزائن کیا گیا ہے جبکہ عنزہ کو وزن اور دیگر اعتبار سے کہوٹہ لیبارٹریز کی ریسرچ میں بہتر اور کارآمد بنایا گیا۔ اس تصویر میں آپ افغان مجاہد کو امریکی ساختہ FIM-90 سٹنگر ہتھیار کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment