Tuesday, November 07, 2017

پاکستان نیوی کے کمانڈوز چھوٹی آبدوزیں کیسے استعمال کر کے دشمن کو زبردست نقصان پہنچاتے ہیں

پاکستان کے دفاع میں نیول کمانڈوز کا کردار انتہائی اہم ہے نیوی کے کمانڈوز کئی طرح سے نیوی کے لیے کام کرتے ہیں، وہ اپنی ڈیوٹی سطح سمندر کے علاوہ سمندر کی تہوں میں بھی دیتے ہیں، اس ڈیوٹی میں دشمن سے لڑنے کے علاوہ دشمن کی جاسوسی کرکے اُس کی دفاعی معلومات حاصل کرنا اور نقل وحرکت پر نظر رکھنا شامل ہے۔جاسوسی سطح سمندر پر ریڈاروں اور جہازوں کے ذریعے کی جاتی ہے جبکہ کمانڈوز سمندر کی گہرائیوں سے ہوتے ہوئے دشمن کے علاقے میں باآسانی دشمن کی جاسوسی کر سکتے ہیں،جاسوسی کرنے کے لئے کئی طرح کے وسائل استعمال ہوتے ہیں، کمانڈوز بغیر نظر آئے دشمن کی جاسوسی کے علاوہ باقی خفیہ آپریشن کرنے کے لیے دشمن کی سمندری حدود میں داخل ہوتے ہیں، دشمن کی سمندری حدود میں پہنچنے کے لئے نیوی کے کمانڈوز چھوٹی آبدوزیں استعمال کرتے ہیں۔یہ چھوٹی آبدوز کمانڈوز کو دشمن کی سمندری حدود کے نزدیک چھوڑ دیتی ہے,اس ایک آبدوز میں دو “Swimmer Delivery Vehicles” موجود ہوتی ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے نیوی کے کمانڈوز دشمن کے انتہائی نزدیک پہنچ سکتے ہیں اور غیر معمولی خفیہ آپریشن سرانجام دے کر انہی
“Swimmer Delivery Vehicles” کے زریعے کمانڈوز واپس آبدوز تک.      پہنچتے ہیں۔الحمد للہ پاکستان یہ چھوٹی آبدوزیں بھی خود بناتا ہے، پاکستان “MG110 Class Midget Submarine” بنتا ہے، پاکستان نے ان چھوٹی آبدوزوں کی ٹیکنالوجی اٹلی سے 1988 میں حاصل کی، پاکستان کی بنائی ہوئی ان آبدوزوں میں تورپیڈ فائر کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے، اس کے علاوہ یہ آبدوزیں دشمن کے سمندری راستوں میں مائنز بچھانے کے بھی کام آتی ہیں، ایک آبدوز میں 8 نیوی کے کمانڈوز اور 2 “Swimmer Delivery Vehicles” یعنی سمندری گاڑیاں سما سکتی ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان مستقبل کے لیے ایسی چھوٹی آبدوزیں بنائے گا جو کہ اسٹیلتھ ہوں اور زیادہ جدید ہونے کے ساتھ ساتھ پوری طرح سے پاکستانی ٹیکنالوجی استعمال کرکے بنائی گئی ہوں۔


No comments:

Post a Comment