تاریخ کے اوراق الٹائے جایئں تو صدام سے قزافی تک جو بھی ملک امریکہ کا دوست رہا ہے ۔۔اسے اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔
سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اپنی کتاب میں لکھا تھا۔۔ کہ امریکہ پیراسائیٹس کی طرح اپنے دوست کو کھا جاتا ہے مطلب امریکہ کی دوستی کی قیمت اس کے دوست کو بہت بھاری چکانی پڑتی ہے۔
امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو اگر باریک بینی سے تاریخ کے آیئنے میں دیکھا جائے تو صرف مفادات ، دھوکہ دہی اور مطلب پرستی پر مشتمل ہے۔ اس کی واضح مثال سیٹو سینٹو معاہدات کے باوجود 1971 میں امریکہ نے پیٹھ میں چھرا گھونپا۔۔۔ اس سلسلے میں یہ کہنا درست ہوگا کہ امریکہ پاکستان کا منافق دوست ہے۔
اللہ رب العزت کا اس سرزمین پر خاص انعام و اکرام ہے پاکستان اس کے رازوں میں سے ایک راز ہے قدرت کے کام عجیب ہوتے ہیں جیسا کروگے ویسا بھرو گے کے مصداق جہاد افغانستان کے فورا بعد وہ امریکہ جس نے 1990 کی دہائی میں پاکستان کی ادایئگی کے باوجود ٖطیارے روک لیے تھے اور ایٹمی پروگرام کو رول بیک کروانے کے لیے دباو کے طور پر فوجی و سول امداد روک دی گئی تھی آج پاکستان خود طیارہ سازی کر رہا ہے بلکہ فروخت بھی کر رہا ہے۔
اب اصل بات کی طرف آتے ہیں بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے وہ کبھی پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتا۔ ماضی کو ایک طرف رکھ کر بھی دیکھیں تو موجودہ دور میں ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لاین معایدہ سے عین وقت پر باہر اس لیے ہو گیا کہ اس سے پاکستان کو سالانہ 700 ملین ڈالر راہداری کی مد میں ملنے تھے اور اس کی ترقی کی نبض پر پاکستان کا ہاتھ آجانا تھا۔ اسی بھارت کو پاک چین اقتصادی راہداری پر پاکستان کو ملنے والے متوقع سالانہ 5،000 ملین شیئرکا منافع کھٹک رہا ہے۔
سابقہ امریکی صدور کی بھارت آمد پر سب سے زیادہ اسی ایشو پر ڈسکس ہوئی ۔
موٖجودہ امریکی بیان کہ سی پیک متنازعہ علاقہ سے گزر رہا ہے پر اتنا کہنا چاہوں کا کہ پچھلے 70 سال سےامریکہ نے اس متنازعہ علاقہ کا حال تک نہ پوچھا۔ 100،000 سے زائد کشمیری مجاہدیں نے اپنی جانوں کے نزرانے دئے اس وقت امریکہ بہادر سویا ہوا تھا۔ بھارتی افواج نے پیلٹ گنز سے سینکڑوں معصوم لوگوں کو ہمیشہ کے لے بے دید کیا اس وقت امریکہ چنے بیج کر سویا ہوا تھا۔ ہزاروں کشمیری ماوں بہنوں کی عصمت دری کی گئی اس وقت امریکہ کہاں تھا۔
مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے حصہ کے پانی پر ناجائز ڈیم بنائے گئے اس وقت وہ متنازعہ علاقہ نہ بنا۔ صرف اس وقت متنازعہ علاقہ بنا کہ وہاں دنیا کا عظیم الشان روڈ بن رہا ہے ماضی میں بھی شاہراہ قراقرم اسی علاقہ میں بنی ۔۔ اس وقت شاید پاکستان امریکہ کے مفاد میں کام کر رہا تھا اس لے وہ چپ رہا۔
نہیں نہیں یہ بات ہرگز نہ ہے۔۔ سیدھی سی بات ہے کہ امریکہ افغانستان میں پاکستان کے نمبر ون لوگوں سے ہار گیا ہے۔ اوروہ اپنی شکست کے زخم چاٹ رہا ہے اور نیم مدہوشی کے عالم میں اول فول بک رہا ہے۔ ساری دنیا جانی ہے کہ وہ نمبر ون لوگ کون ہیں اور انہیں نمبر ون اسی لیے ملا ہے۔ اب وہ اس بات کا بدلہ لینےکے لیئے کبھی 35 پوائینٹس پر حملہ کرنے کی پاکستان کو کھلی دھمکی دیتا ہے کبھی افغانستان میں داعش کو مسلح کررہا ہے۔۔ حالیہ حامد کرزئ کا بیان اس بات کی چیخ چیخ کرتصدیق کر رہا ہے۔
بعض لوگ جنرل مشرف کو افغانستان رسائی پر کوستے اور ڈرپوک کہتے ہیں ۔۔ میرے خیال میں روس کے بعد امریکہ کا جنازہ پڑھنے کی بہتر جکہ افغانستان ہی تھی۔ وقت اور نمبر ون لوگوں نے سچ کر دکھایا کہ سینکڑوں ارب ڈالر اور ہزاروں امریکی فوجیوں کے لاشوں کے تحفوں کے علاوہ امریکہ کو افغانستان نے کچھ نہیں دیا۔
جہاں تک داعش کا تعلق ہے اس پیج پر امریکہ اور بھارت اکھٹے ہیں پچھلے چار سالوں میں بھارتی سکیورٹی ایڈوایزر برائے مودی ۔کمار ڈول کے عراق اور اسرایئل کے خفیہ دورں کو چھانا جاے تو بنگلہ دیش اور افغانستان میں داعش کو لانچ کرنےکا سرغنہ بھارت ہی نکلتا ہے۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان میں بھارت کے قونصل خانوں سے پنپنے والی داعش کو وہیں تک محدود کر دیا جائے۔۔ اور وہیں کچل دیا جاے
سی پیک کی بنیادوں میں پاک فوج کےبہادر جوانوں کے خون کی قربانی دفن ہے۔۔ سی پیک پاکستان کی خوشحالی کی ضامن گڑھی کی سچائی ہے جسے بھارت اور امریکہ سیاسی شعبدہ بازوں کو خرید کرنے کے بعد نمبر ون لوگوں کو دباؤ میں لا کر اس منصوبے کو رول بیک کروانا چاہتا ہے۔۔
لیکن گزشتہ روز محترم قمر باجوہ صاحب کے بیان نے پاکستان کے دشمنوں کو مزید مایوسی کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔۔ پاکستان ایک چھپی عالمی قوت ہے جسے نہ ڈرایا جا سکتا ہے۔۔ نہ زیر نگوں کیا جاسکتا ہے نہ نذر انداز کیا جا سکتا ہے۔ جب تک اس کے نمبر ون محافظ زندہ ہیں ۔۔ انشاء اللہ
اللہ پاک پاکستان اور اسکے چاہنے والوں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

No comments:
Post a Comment