Tuesday, December 12, 2017

آئی ایس آئی کے گمنام سپاہی

اس زمین کے سینکڑوں بیٹے اس اذیت سے گزر کر شہید ہو چکے ہیں۔ کس لیے؟ محض ہمارے لیے۔ آپ کو پتہ ہے بیرونِ ملک لانچنگ سے قبل اس ملک کے ایجنٹس کو سائنائیڈ زہر کا ا کیپسول بھی دیا جاتا ہے اور زہر دینے والا کوئی اور نہیں ہوتا وہ سینیئر افسر ہوتا ہے جو اس ایجنٹ کو اپنے بچوں سے بڑھ کر چاہتا ہے اور تربیت کرتا ہے۔ پرآخری وقت یہ تاکید کرتا ہے کہ بیٹے اگر پکڑے گئے تو دشمنوں کے ہاتھ آنے سے پہلے یہ زہر استعمال کر لینا ہماری زندگی ہمارے ملک سے اہم نہیں ہے۔ تصور کریں کوئی اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے زہر کھانے کا کہہ سکتا ہے ؟ مگر یہ لوگ کہتے ہیں۔ کس لیے؟ محض ہمارے لیے۔ دورانِ ڈیوٹی شہادت پانے والوں کو بڑے اعزاز سے دفنایا جاتا ہے مگر یہ واحد لوگ ہیں جو گمنامی کی زندگی جی کر گمنامی میں انتقال کر جاتے ہیں۔ ان لوگوں کا جذبہ کیا ہوگا جن کی لاشیں لینے بھی محکمے کی گاڑیاں اور لوگ نہیں جاتے بلکہ ایدھی فاؤنڈیشن کی گاڑیوں میں ان کی تڑی مڑی لاشیں واپس آتی ہیں اور بنا شور شرابہ کیے ان کو دفن کیا جاتا ہے۔ کیا یہ آسان ہوتا ہے کہ اپنے کولیگ کی لاش وصول کرنے بھی کوئی خود نہ جا سکے؟ ان کے بچے بھی ہوتے ہیں اور گھر والیاں بھی ماں باپ بھی۔ ایسا آج تک نہیں ہوا کہ مشن پہ جانے سے قبل کسی ایجنٹ نے اپنے مشن سے متعلق بتایا ہو۔ شہادت کی صورت میں بعض دفعہ گھر والوں کو کئی کئی سال علم نہیں ہوتا کہ ہمارا بھائی بیٹا یا باپ شہید ہو چکا ہے۔ یہ لوگ کس لیے کرتے ہین یہ سب؟ ہمارے لیے محض ہمارے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بنا ان کو دیکھے، بنا ان کو ملے ساری زندگی محض سیکرٹ ایجنٹس کے خیال سے محبت کرتے ہیں۔ وہ بھی تو بنا ہمیں دیکھے بنا ہمیں ملے ہمارے لیے جان دیتے ہیں تو ہم بھی بنا انہیں ملے اور بنا انہیں دیکھے کیوں نہ ان پہ جان دینے کی سوچ اپنائیں۔ اور ہاں۔ کسی سیکرٹ ایجنٹ کی زندگی اس سے کہیں زیادہ تلخ اور سخت ہوتی ہے جتنا آپ آسانی کا گمان کرتے ہیں۔  شہید عمر مبین جیلانی  جو انہی گمنام راہوں کہ اک مسافر تھے اور انہیں حالات سے گزرتے ہوئے اپنی زندگی وطن کہ صدقے وار دی. بیشک وطن کہ اوپر جان قربان کرنے سے زیادہ کچھ مقدس نہیں.. اللہ تعالیٰ کے ہاں روز قیامت اجر پانے والوں کا رتبہ یقیناً سب سے بلند ہے۔ اللہ پاک ان اصل ملک و قوم کے خادموں کو استقامت اور پامردی برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین. #PakSoldier HAFEEZ

No comments:

Post a Comment