Tuesday, December 12, 2017
پاکستان کے دفاع میں ڈرون ٹیکنالوجی کا کردار،
دنیا میں اس وقت اگر کسی ملک کو سب سے زیادہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے تو وہ پاکستان ہے،کیونکہ اس وقت پاکستان کے ساتھ ان تین ملکوں کی سرحدیں ملتی ہیں جوک بلواسطہ یا بلاواسطہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کروانے میں ملوث ہیں جن میں بھارت افغانستان اور ایران شامل ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے تقریباً آدھی آرمی کو ملک کے اندر ہی سکیورٹی کے معاملات کو دیکھنے پر لگا رکھا ہے،جبکہ باقی اس وقت پاک بھارت بارڈر کے علاوہ پاک افغان بارڈر پر بھی موجود ہے جو کہ غیر روایتی جنگ لڑ رہی ہے, اس جنگ میں استعمال ہونے والا سب سے بہترین ہتھیار “ڈرون” ہے، اور پاکستان اس ہتھیار کی اہمیت کو سمجھ چکا ہے۔لہذا پاکستان ایر فورس نے انتہائی اہم فیصلہ کیا ہے،اور بہت جلد ایسے ڈرون تیار کرنے کی ٹھان لی ہے جو کہ نا صرف 2 سے زیادہ میزائل لے جا سکتے ہیں بلکہ کئی گھنٹے تک لگاتار پرواز کر سکتے ہیں، جیسے کہ چین کا بنایا ہوا “Wing Loong “نامی ڈرون میزائلوں سمیت لگاتار 20 گھنٹے تک پرواز کرسکتا ہے،
اس کے علاوہ چینی ساختہ “CH-5 “ڈرون نہ صرف ایک وقت میں 16 میزائل لے جاسکتا ہے بلکہ 120 گھنٹے تک لگاتار پرواز کرسکتا ہے.پاکستان اس وقت خفیہ طور پر چین سے”Wing Loong” ڈرون کی ٹیکنالوجی حاصل کرکے اسے اپنی دفاعی ضروریات کے مطابق تیار کر رہا ہے، اگر پاکستان “CH-5” جیسے ڈرون ملکی سطح پر تیار کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان کا دفاع بہت مضبوط ہو جائے گا،جو فوج پاکستان نے پاک افغان بارڈر پر بھیجی ہوئی ہے 80 فیصد فوج واپس آسکتی ہے، جس کے نتیجے میں پاک فوج میں قیمتی جانی نقصان بہت کم ہوگا۔پاکستان ائیر فورس امریکہ کی طرح اپنے بارڈر کی نگرانی جدید ڈرونز کی مدد سے کر سکے گی اور ضرورت پڑی تو میزائل بھی داغا جا جاسکتا ہے،اس وقت پاکستان کو اس ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ بھارت نہ صرف ایل-او-سی پر کشیدگی برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ افغانستان سے مل کر افغانستان کے بارڈر کو استعمال کرکے دہشتگردوں کو پاکستان میں داخل کرتا ہے، بھارت کا مقصد یہی ہے کہ پاکستان اپنی زیادہ سے زیادہ فوج پاک افغان بارڈر پر لے جائے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)



No comments:
Post a Comment