Saturday, January 06, 2018
آئی ایس آئی کے پورے 50 بندے انڈیا میں موجود ان کے ہیڈکوارٹر سے ٹرینگ لیکے آئے تھے، ٹرینگ کے بعد جیسے ہی وہ سب تخریب کار کاروائیوں کے لیے پاکستان بھیجے گئے تو وہ دن اور آج.
کا دن ہندوستانی را کو وہ بندے نظر ہی نہیں آ رہے 😀 😀 ھندو مشرک حیران و پریشان ہو گئے ہیں کہ آخر وہ بندے تھے کون اور گئے کہاں، زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا 😀 را کے گدھوں کو اتنا بھی پتا نہیں چل سکا کہ جن علیحدگی پسندوں کے روپ میں آئے ہوئے بندوں کو وہ ٹرینگ کے لیے بھارت بلاتے ہیں وہ دراصل پاکستانی آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ پاکستانیوں فخر کرو اپنی ایجنسیوں پر، ہمارے ایجنسی کوئی معمولی ایجنسی نہیں ہے، دنیا کی سپر پاور ایجنسی ہے امریکہ بھی مانتا ہے کہ آئی ایس آئی نمبر ایک خفیہ ایجنسی ہے جبکہ ہمارے سب سے بڑے جانی دشمن انڈیا کے آرمی اور انٹیلیجنس چیفس بھی خود اعتراف کر چکے ہیں کہ واقعی پاکستانی خفیہ ایجنسی “آئی ایس آئی” دنیا کی نمبر ون خفیہ ایجنسی ہے جس کا آج تک ایک بھی ایجنٹ پکڑا نہیں جا سکا۔وہ گمنام سپاہی کون ہوتے ہیں؟ کہان رہتے ہیں؟ کیا کام کرتے ہیں؟ یہ دنیا کا کوئی بندہ نہ آج تک جان سکا ہے اور نہ ہی جان سکے گا، بس خاموشی سے سب کام کیا جاتا ہے، دنیا کی ہر فیلڈ میں ایسے گمنام سپاہی موجود ہوتے ہین لیکن ان کا کسی کو پتا نہیں چل سکتا۔ اگر ایک ہی جگہ پر دو آئی ایس آئی کے ایجنٹ. کام کریں تو ان دونوں کو بھی پتا نہیں ہوتا کہ دوسرا بندہ بھی ایجنٹ ہے، پاکستانی ایجنسی اتنی خفیہ اور سخت ترین ہے کہ وہ اپنے آرمی چیف کی بھی خفیہ نگرانی کرتی ہے۔ کوئی بھی سیاستدان، بیوروکریٹ یا میڈیا کا بندہ اس نگرانی سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ بس سب کام خاموشی سے کیے جاتے ہیں۔ہماری صرف ایجنسی ہی نمبر ون نہیں بلکہ آرمی بھی نمبر ون ہے، سابق امریکی صدر خود اعتراف کر چکے ہیں کہ اگر ان کے پاس پاکستان آرمی ہو تو وہ ساری دنیا کو فتح کر سکتے ہیں، دنیا کے ہر بڑے سے بڑے فوجی مقابلوں میں ہمارے آرمی کے جوان ہی جیتتے ہیں۔ سردوں میں برف پر گھنٹوں لیٹ کر اوپر سے ٹھنڈہ پانی ڈالنا ہو یا جون جولائی کی سخت گرمیوں میں آگ پر چل کر فوجی مشقیں کرنا ہو؟ ہر جگہ ہمارے ایس ایس جی کمانڈوز ہی نمبر ایک رہے ہیں، الحمداللہ لیکن ہم پاکستانی بہت ناشکرے ہیں، جو فوجی اپنی جان کے نذرانے دیکر ہمارے ملک کو امن بخشتے ہیں ہم انہیں ہی اپنے علاقوں کے حرام خور سیاستدانوں کے کہنے پر گالیاں دیتے نہیں تھکتے، ہر مسئلے کی جڑ فوج کو قرار دیکر سیاستدانوں کے حق میں قصیدے پڑھتے رہتے ہیں۔ جو فوجی اپنی اولادوں کو بھی سرحدوں پر بندوق کے ساتھ بھیج دیتے ہیں ان کو گالیاں دیتے ہیں اور جو سیاستداں اپنے بچوں. کو پڑھائی سے لیکر عیاشیوں کے لیے بیرون ممالک گھماتے پھرتے ہیں ہم انہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔آج انہی سیاستدانوں پر بھروسے کا یہ صلہ مل رہا ہے کہ نہ آپ کو پینے کا صاف پانی ملتا ہے، نا بجلی آتی ہے، نا گیس آتی ہے۔ کھانے پینے سے لیکر مارکیٹ میں موجود تمام اشیاء پہلے سے بھی دگنا مہنگی ہوتی جارہی ہیں لیکن عوام وہی جاہل بار بار آزمانے والوں کو پھر بھی آزماتی رہتی ہے، یہ لٹیرے ارب پتی بن گئے ان کی شگر ملوں سے لیکر تمام بزنس دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہا ہے لیکن جب ان کو ملکی ادارے دیے جاتے ہیں تو وہ سب ادارے دن گنی رات چگنی ناکامی کی طرف رواں دواں ہو جاتے ہیں؟ ایسا کیوں ۔ ۔ ؟ کیونکہ ذاتی کاروبار آخر ذاتی ہوتا ہے اس میں نقصان کوئی برداشت نہیں کرتا جبکہ ملکی اداروں کو حرام خور سیاستدان اپنا سمجھتے ہی نہیں، جو جتنا لوٹ سکتا ہے لوٹ کر چلا جاتا ہے اور یہ سلسلہ پچھلے تین عشروں سے پاکستان میں جاری و ساری ہے لیکن مجال ہے جو عوام کو عقل آئے۔غلام کو غلامی پسند نہ ہو تو کوئی آقا پیدا نہیں ہو سکتا۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment