پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی 12.7ایم ایم ہیوی مشین گن "ڈی ایس ایچ کے" کے نام سے جانی جاتی ہے.یہ ایک ایسی گن ہے جو بیک وقت تیز رفتار فضائ دشمن اور زمینی دشمن کے خلاف موثر ہتهیار ہے.
اسے روس پہلی بار 1938 میں منطرعام پر لے کر آیا لیکن پاکستان نے چین سے ٹی-56 ٹینک لینے کے بعد ان کی آزمائشی مشقیں کیں اور یہ ہر حالات میں بہتر ہتهیار ثابت ہوئ چناچہ پاکستان نے چین سے یہ ہتهیار ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی بنیاد پر خرید لیا.اسے الخالد ٹینکس کے علاوہ باقی ٹینکس پر زیادہ تر ٹینک کی مشین گن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن موجودہ وقت میں اسے برابر بڑی فوجی گاڑیوں،پاک نیوی فریگیٹس، اور پاک نیوی کنورٹس میں استعمال کیا جاتا ہے.
وقت کے ساته ساته اس مشین گن میں کئ تبدیلیاں کی گئیں جس سے اس گن کا نتیجہ بہت حد تک بہتر ہوا.
یہ گن ایک منٹ میں 600 گولیاں فائر کر سکتی ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ بہترین رینج 2200 میٹر ہے.بیرل وغیرہ سمیت گن کا کل وزن 93 کلو گرام ہو سکتا ہے.
پاکستان الخالد ٹینک پر چائنی ساختہ ہیوی مشین گن استعمال کرتا ہے جو کہ اس گن کی ہی ایک اپگریڈیڈ شکل ہے.اس گن کے وار میں آنے والا چاہے بلٹ پروف جیکٹ ڈال کر بهی کهڑا ہو ...اس گن کی گولیاں ڈرل کی طرح سوراخ کر کے گزر جاتی ہیں.

No comments:
Post a Comment