دنیا کی سب سے بڑی کھٹارہ ائیر فورس!!
۔ ۔ ۔
بھارت کو مگ-21 طیارے 1963 میں ملنا شروع ہوئے اور اب تک 1200 مگ-21 طیارے بھارتی فضائیہ کو مل چکے ہیں۔
ان طیاروں میں سےکم ازکم 880 طیارے 2017 تک کریش ہو گئے۔ جن میں بھارتی فضائیہ کے180 پائلٹ اور چالیس عام شہری مارے گئے۔
یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو صرف بھارتی مگ-21 سے متعلق ہیں۔
اب آتے ہیں میراج-2000 طیارے کی جانب۔
بھارت نے پاکستان کے ایف-16 طیارے کے توڑ کے لیے 1980 کی دھائ کے آخر پر فرانس سے 40جدید میراج-2000 طیارے حاصل کیے، ان طیاروں میں سے اب تک 10 سے زائد گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔ جن میں پندرہ سے زائد بھارتی پائلٹس مارے گئے۔
1980کی دھائ میں ہی بھارت نے فرانس سے گراونڈ اٹیک کے لیے جیگور فائٹر طیارے حاصل کرنے شروع کیے، اور ان طیاروں میں سے اب تک50 طیارے گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔
یہ بہت تھوڑے اعدادو شمار ہیں، بھارتی فضائیہ کے پچھلے پندرہ سال میں گر کر تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد تین سو تک پہنچ چکی ہے۔
بھارتی پائلٹس کے اناڑی پن کا اندازہ لگائیں کہ رواں سال ہی گر کر تباہ ہونے والے بھارتی طیاروں کی تعداد 8ہو گئ ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس وقت بڑھتے کریشز کی وجہ سے بھارتی فضائیہ دنیا کی سب سے بڑی کھٹارہ ائیرفورس بن چکی ہے۔
بھارتی پائلٹس کا نشہ کرنا، اور کام سے نفرت بھارتی فضائیہ کو لے ڈوبا ہے۔
Thursday, March 14, 2019
بھارتی فضائیہ
دنیا کی سب سے بڑی کھٹارہ ائیر فورس!!
۔ ۔ ۔
بھارت کو مگ-21 طیارے 1963 میں ملنا شروع ہوئے اور اب تک 1200 مگ-21 طیارے بھارتی فضائیہ کو مل چکے ہیں۔
ان طیاروں میں سےکم ازکم 880 طیارے 2017 تک کریش ہو گئے۔ جن میں بھارتی فضائیہ کے180 پائلٹ اور چالیس عام شہری مارے گئے۔
یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو صرف بھارتی مگ-21 سے متعلق ہیں۔
اب آتے ہیں میراج-2000 طیارے کی جانب۔
بھارت نے پاکستان کے ایف-16 طیارے کے توڑ کے لیے 1980 کی دھائ کے آخر پر فرانس سے 40جدید میراج-2000 طیارے حاصل کیے، ان طیاروں میں سے اب تک 10 سے زائد گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔ جن میں پندرہ سے زائد بھارتی پائلٹس مارے گئے۔
1980کی دھائ میں ہی بھارت نے فرانس سے گراونڈ اٹیک کے لیے جیگور فائٹر طیارے حاصل کرنے شروع کیے، اور ان طیاروں میں سے اب تک50 طیارے گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔
یہ بہت تھوڑے اعدادو شمار ہیں، بھارتی فضائیہ کے پچھلے پندرہ سال میں گر کر تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد تین سو تک پہنچ چکی ہے۔
بھارتی پائلٹس کے اناڑی پن کا اندازہ لگائیں کہ رواں سال ہی گر کر تباہ ہونے والے بھارتی طیاروں کی تعداد 8ہو گئ ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس وقت بڑھتے کریشز کی وجہ سے بھارتی فضائیہ دنیا کی سب سے بڑی کھٹارہ ائیرفورس بن چکی ہے۔
بھارتی پائلٹس کا نشہ کرنا، اور کام سے نفرت بھارتی فضائیہ کو لے ڈوبا ہے۔
تھر کی پیاس اور اک آس
آج کل دنیا کے حالات روز کی بنیادوں پہ بدل رہے ہیں ۔ہر روز اک نیا مسلہ، نئی پریشا نی سامنے آ جاتی ہے ۔
خاص طور پر پاکستان اور بھارت کی کشیدگی عروج پہ ہے ۔دونوں ملک جیسے بم کے منہ کے سامنے ہیں بھارت کی ہٹ دھرمی نے پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔
پاکستان ہر ممکن کوشش کر رہا ہے بھارت کی بدمعاشی کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے ۔
اس کے لئے کچھ ایسے اقدامات کر رہا ہے کہ بھارت جنگ سے باز رہے ۔ اس کےلئے پاکستان کی کوششوں کو پوری دنیا نے سراہا ہے ۔
لیکن شاید ایسے اقدامات کرتے کرتے ہماری ملکی پالیسی نے اچانک کچھ ایسا راستہ اختیار کیا ہے کہ ملک میں کے اندر جو یکجہتی اور اتحاد نظر آرہا تھا اچانک بے چینی پھیل گئی ہے ۔
ملک کے اندر یہ فضا کچھ تنظیموں کو بین کرنے ،ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور اثاثہ جات کو قبضے میں لینے کی وجہ سے قائم ہوئی ہے۔
ان میں وہ فلاحی تنظیم بھی شامل پے جس کی خدمات کا اعتراف دنیا کرچکی ہے ۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ۔
چند دن پہلے ایک وزیر سے قلمدان واپس لے کیا گیا کہ اس نے ہندووں کو گائے کا پیشاب پینے والی قوم کہا تھا۔
حالانکہ یہ ہندووں کے لئے نازیبا زبان نہیں ہے کیونکہ نازیبا وہ بات ہوتی ہے جو کسی قوم میں موجود نہ ہو یا کوئی برا واقعہ جڑا ہو اس بات کے ساتھ یا برا سمجھا جاتا ہو ۔ہندو گائے کے پیشاب کو متبرک سمجھتے ہیں اور اپنی چیزوں میں ڈالتے ہیں ۔پھر اس وزیر سے وزارت چھیننا چہ معنی دارد۔
اس وقت جب سوشل میڈیا کی وجہ سے ہر شخص بہت کچھ دیکھتا اور سنتا ہے اور ہر وقت حالات حاضرہ سے باخبر رہتا ۔کیا لوگ دیکھ نہیں رہے کہ جماعت الدعوہ کیا کررہی پے ؟
کیا تھر میں لگے کنویں نظر نہیں آتے انھیں؟
کیا اس کے کارکن بستر ،کپڑے، شیلٹر بانٹتے ،
بارشوں اور سیلاب میں کشتی چلاتے نظر نہیں آتے ؟
کیا زلزلے کی مصیبتوں میں یہ لوگوں کی جانیں بچاتے نظر نہیں آتے؟
یہ جماعت ہمیشہ سے اس ملک کی محافظ رہی ہے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ اس جماعت نے افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کیا ہے لیکن وہ بھی اس وطن کی حفاظت کی خاطر ۔
جب روس کو گرم پانیوں تک رسائی سے روکنے کے لئے اس جماعت نے اسلحہ اٹھایا لیکن روس چلا گیا تو یہ جماعت صرف ایک مذہبی جماعت تھی اس کے بعد اس جماعت نے ایک فلاحی تنظیم بنائی۔
جس کے فلاحی کام کی پوری دنیا میں دھوم تھی ۔
جب ملک میں دہشت گردی نے سر اٹھایا اور تکفیریت نے جنم لیا تو یہی جماعت ہے جس نے قلم کا جہاد کیا اور اس کے خلاف کتابیں لکھ لکھ کر لوگوں کو اس فتنے سے آگاہ کیا ۔ اور کتابچےاور پمفلٹ بھی لکھ لکھ کر لوگوں میں تقسیم کئے ۔
اوراس طرح لاکھوں لوگوں کے بھٹکتے ہوئے ذہنوں کو سیدھی راہ دکھا کر ملک میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
اس کے علاوہ بلوچستان میں بھارت کی سازشوں کا توڑ کیا بلوچوں کو حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بھارت کے چہرے کو بےنقاب کیا اور جو بلوچ ہتھیار اٹھا چکے تھے ان کے ہتھیار پھنکوانے میں فوج کے شانہ بشانہ کام کیا ۔
یہ جماعت پوری دنیا میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات پہ آواز اٹھاتی ہے۔
یہی وہ جماعت پے جس نے ملک میں لبرلزکے ذریعے نظریہ پاکستان پہ لگنے والی ضربوں کا توڑ کیا اور "نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے” کا نعرہ بلند کیا ۔
دیگر ممالک میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جب کسی جماعت نے ملک کے خلاف ہتھیار اٹھائے تو اس جماعت سے ہتھیار پھنکوا کر قومی دھارے میں شامل کر لیا گیا ۔
حتی کہ امریکہ نے طالبان کے خلاف کئی سال ٹریلین ڈالر خرچ کر کے آخر کار انھیں مذاکرات کے ذریعے قومی دھارے میں شامل ہونے کہ پیشکش کی ہے ۔تو آخر اس جماعت کے قومی دھارے میں شامل ہونے میں کیا قباحت ہے ؟
لیکن یہ جماعت تو ایسی جماعت ہے جس نے صرف جہاد میں حصہ لیا تھا وہ بھی حکومت کی سرپرستی میں ۔لیکن اب یہ جماعت نہ صرف حکومت کی پر پالیسی کا ساتھ دے رہی ہے بلکہ سیاست کے میدان میں قدم رکھ چکی ہے ۔
اب یہ جماعت اسلحہ پھینک کر ملک کی تعمیر و ترقی میں شامل ہو چکی ہے بلکہ جہاں حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہےوہاں بھی یہ جماعت خودکام کرتی ہے ۔اور حالیہ الیکشن اس کی گواہی ہیں جب پانچ لاکھ اس جماعت نے ووٹ حاصل کیے تو لوگوں کے تاثرات یہی تھے کہ یہ لوگ مصیبت کے وقت فرشتہ بن کر آ جاتے ہیں اور سب سے پہلے پہنچ کر ریسکیو کرتے ہیں ۔
اس جماعت کے لیڈر حافظ سعید صاحب نے ہمیشہ فلسطین ،برما کے مسلمانوں اور کشمیریوں کے لئے مضبوط آواز اٹھائی ہے اور یہی اس جماعت کا قصور ہے یہی جرم ہے جس کی آئے دن سزا دی جاتی ہے ۔
ہر چند سال بعد پابندی لگا دی جاتی ہے ۔
لیکن یہ جماعت کبھی حکومت کو دھمکیاں دیتی ہے نہ ملک میں کوئی تباہی مچاتی ہے اس کے کارکنان ہمیشہ تڑپتے دل کے ساتھ اپنے امیر کے پیغام کا انتظار کرتے ہیں اور پیغام ہمیشہ حوصلے بڑھاتا اور پرامن رہنے کا ہوتا ہے ۔
ہمیشہ اللہ کی مدد کا انتظار اور دعاؤں کا کہا جاتا ہے ۔
کبھی ایک اینٹ نہیں توڑی اس ملک کی اس جماعت نے۔
بیرونی دنیا اسی لئے اس جماعت کے خلاف ہے ۔
انڈیا اسرائیل اور امریکہ آئے دن اس ملک کے خلاف کوئی نہ کوئی سازش تیار کئے رکھتے ہیں جن میں پی ٹی ایم بھی شامل ہے ۔جو ملک کو توڑنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ملک میں فوج کے خلاف فضا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی ملک پابندی کا نہیں کہتا،
کوئی کریک ڈاؤن نہیں کیا جاتا ۔
آخر کیوں؟
یونکہ دشمن چاہتا ہے کہ مخلص محب وطن جماعتوں کا خاتمہ کروا کر پی ٹی ایم جیسی تحریکوں کو مضبوط کیا جائے تاکہ اس ملک پہ قبضے کے خواب پورے ہو سکیں ۔
لیکن اب سوچنا ہوگا آخر ایک ایسی تنظیم جو صرف فلاح کے کام کرتی ہے جو ایک پرامن جماعت ہے اور جو ملک میں امن قائم کرنے میں حصہ دار ہے یوں کسی کی خوشنودی کے لئے اس جماعت کو ختم کردینا کیا سود مند ہوگا ؟
اگر بات گرفتاریوں کی کی جائے تو لاکھوں لوگ اس جماعت کت ساتھ وابستہ ہیں ۔کیا سب جیلوں میں ڈال کر مجرم بنا دئیے جا ئیں گے ؟
ان کا جرم کیا ہوگا؟
ان پہ کون سی تعزیر لگاو گے ؟
خدمت انسانیت؟
ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں ساتھ دینا ؟
فتنہ تکفیر کو فتوے دے کر قابو کرنا ؟
تمام مسالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ؟
حب الوطنی کو اجاگر کرنا ؟
دکھی انسانیت کے زخموں پہ مرہم رکھنا ؟
احیاء نظریہ پاکستان؟
خان صاحب یہ جماعت بہت پر امن ہے ۔
اس کی ملک کے لئے بےشمار خدمات ہیں ۔فوج کے خلاف اٹھنے والے فتنے کو دبانے میں لوگوں کو ففتھ جنریشن وار کی ہوناکیوں سے آگاہ کرنے میں اس کا زبردست کردار ہے ۔
یہ وہ لوگ ہیں جن پہ کام کرنے کے دوران پابندی لگا دی گئی تو یہ لوگ روتے تھے کہ انسانوں کو بچانے دو جماعت کی جیکٹیں اتار دیتے ہیں پھر بھی نہ مانے تو داڑھیاں کٹوانے کو تیار ہو گئے لیکن جب پتھر دل پھر بھی موم نہ ہوئے تو کاروبار روتے تھے ۔
اس قدر انسانیت سے پیار کرنے والے کیا دہشت گرد ہوسکتے ہیں ؟ان کو پابند سلاسل کرنا کسی صورت دانشمندی نہیں ہے ۔
اس جماعت کے کارکنان ہر شعبے میں اپنی مثال آپ ہیں ۔
ان کی ٹریننگ لا جواب ہے ان کا کردار با کمال ہے ۔
چاہے وہ شعبہ تبلیغ ہویا ریسکیو ،شعبہ ادب ہو یا خدمت ۔ان کو قومی دھارے میں شامل کر کے ملک لر دفاع کو مزید مضبوط کیاجا سکتا ہے کیونکہ ان کی وفاداری شک و شعبہ سے بالاتر ہے ۔ اس کا ثبوت یہ بھی کے کہ جب بھی اس جماعت پہ پابندیاں لگیں اس کے اثاثہ جات پہ قبضہ کیا گیا اس جماعت نے آگے سے کبھی بھی ردعمل نہیں دیا ۔
یہ جماعت اپنے ایک ایک شعب کے ذریعے اس ملک کو مضبوط کرتی ہے ۔ ان کی ہر بات اسلام و پاکستان سے شروع ہو کر اسلام و پاکستان پر ختم کو جاتی ہے۔
سب کے اثاثہ جات پہ قبضہ جائز نہیں ہے ۔یہ تو پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں ۔اس کی قدر کیجئے ۔اغیار کو خوش کرنے سے پہلے سوچ لیں کہیں ان غرباکا حق نہ مارا جائے جو اس جماعت کی وجہ سے رب کی مہربانی سے رات کو کھا کر سوتے ہیں جو گندہ پانی پیتے تھے جوہڑوں سے آج ان کی وجہ سے صاف کنویں کا،پانی پیتے ہیں ۔
رہے اغیار تو وہ اس وقت تک خوش نہ ہونگے جب تک یہ ملک سلامت ہے ۔
اللہ میرے پا کستان کی حفاظت فرمائے آمین۔
اگر پاکستان اپنی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لئے کھول دیتا ہے تو
بھارتی فضائیہ کی ناکامی کے بعد بھارت اسرائیل کی تکنیکی معاونت سے اپنے ملٹری ٹرانسپورٹ یا کسی سویلین طیارے سے پاکستان پر بم گرانے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں اسرائیلی ساختہ جدید ترین بم/ہتھیار استعمال ہو سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ابھی تک اپنی فضائی حدود کے اوپر سے کسی بھی بین الاقوامی پرواز کے گزرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاکہ بھارت و اسرائیل کو مشترکہ طور پر ناکامی کا منہ دیکھا پڑے۔
اگر پاکستان اپنی فضائی حدود بین الاقوامی پروازوں کے لئے کھول دیتا ہے تو کوئی بھی عام بھارتی طیارہ افغانستان، ایران یا کسی بھارتی اتحادی ملک سے واپسی پر پاکستان کی فضائی حدود ختم ہونے سے چند کلومیٹر پہلے کوئی جی-پی-ایس گائیڈڈ یا لیزرگائیڈڈ بم پاکستانی حدود میں کسی ٹارگٹ کو ہٹ کرنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے اور اس ضمن میں بھارت کو اسرائیل کی مکمل ٹیکنیکل سپورٹ حاصل ہے۔
تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امریکی C-130 ٹرانسپورٹ طیارہ بم گرا رہا ہے جبکہ پاک فضائیہ بھی 1965ء کی جنگ میں اپنے C-130 طیاروں سے بھارتی ٹھکانوں پر کامیابی سے بمباری کر چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو
دشمن کو زلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نہ ملے گا۔ انشاءاللہ
پاک فوج زندہ باد۔۔۔ پاکستان پائیندہ باد
#PAKSOLDIE
Monday, November 26, 2018
کیپٹن احسان کی تلاش میں
پاکستانی فوج کا ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے کومان پل کے محاذ پر بھارتی فوجیوں کے خلاف اتنی ناقابلِ یقین بہادری دکھائی کہ جنگ کے بعد بھارتی فوج کا چیف آف آرمی سٹاف نے ایک خط لکھا جس میں اس کی بہادری اور اپنے ملک کے لیے اتنے ناقابل یقین انداز میں لڑنے پر اسے خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا
پاکستانی فوج نے جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں اس میں دو چیزوں پر ہمارے دوست، دشمن اور غیر جانبدار ناقدین متفق ہیں۔ وہ یہ کہ تمام جنگوں میں ہماری اعلیٰ فوجی قیادت قوم کی امیدوں پر پوری نہ اتر سکی لیکن جونیئر لیڈرشپ نے بہادری اور جرات کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں جو ہم سب کےلئے باعثِ فخر ہیں۔ یہی کچھ 1965میں ہوا، 1971میں ہوا، 1999 میں ہوا اور اب بھی ہو رہا ہے۔ فوجیوں کا کام تو پروانوں کی طرح وطن کی آن پر قربان ہونا ہے باقی قوم کی مرضی وہ اسے پذیرائی بخشے یا نہ بخشے۔ موجودہ مضمون کا تعلق بھی پاکستان کے ایک ایسے ہی فرزندِ عظیم کیپٹن احسن ملک اور اسکی یونٹ31 بلوچ رجمنٹ سے ہے۔
1971ءکی جنگ میںکمال پور (جمالپور کا سب سیکٹر) کی حفاظت کی ذمہ داری 31 بلوچ کو سونپی گئی جسے کرنل سلطان احمد جیسے دلیر اور بہادر آفیسر کمان کر رہے تھے۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ فوج میں یونٹ کی سطح پر بہادری اور بزدلی کا حوصلہ کمانڈنگ آفیسر سے شروع ہوتا ہے اور فوج کی سطح پر اعلیٰ فوجی قیادت سے۔ ایک اچھا اور دلیر کمانڈر ایک کمزور فوج کو بھی بہتر طریقے سے لڑا کر مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتا ہے جبکہ کمزور اور بزدل کمانڈر اعلیٰ تربیت یافتہ فوج کا بھی ستیاناس کر دیتا ہے۔ یہ حقیقت پاکستان کی تمام جنگوں میں خصوصاً مشرقی پاکستان کے دفاع میں کھل کر سامنے آئی۔ دلیر اور پیشہ ور کمانڈرز نے آخر تک ہمت نہ ہاری اور بھارتیوں کو اپنی لاشوں پر سے گزر کر مشرقی پاکستان پر قبضہ کرنا پڑا۔ جونیئر آفیسرز کو جہاں کہیں بھی کھل کر لڑنے کا موقع ملا انہوں نے اپنی جان پر کھیل کر ایک ایک انچ زمین کی حفاظت کی۔ بہت سے آفیسرز اور جوانوں نے اپنے فرض کی ادائیگی میں جامِ شہادت نوش کرکے دشمن کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بہت سے آفیسرز اور جوان ایسے بھی تھے جو بھوکے پیاسے آخری دم تک لڑے اور دشمن کو روکے رکھا۔ باامر مجبوری اس وقت ہتھیار ڈالے جب انہیں اعلیٰ قیادت کی طرف سے ایسا کرنے کےلئے کہا گیا۔ ان بہت سی روشن مثالوں میں ایک مثال کیپٹن احسن ملک کی ہے۔
31 بلوچ کے کمانڈنگ آفیسر کرنل سلطان احمد چونکہ بذاتِ خود ایک دلیر افسر تھے اس لئے انکے ماتحت بھی جذبہ ایمانی اور جذبہ سر فروشی سے سرشار تھے۔ کیپٹن احسن ملک کو کمال پور کے علاقے میں آگے ایک بارڈر پوسٹ پر حفاظت کےلئے بھیجا گیا۔ یہ علاقہ چھوٹی چھوٹی تین پوسٹوں پر مشتمل تھا۔ کیپٹن ملک کے پاس 70 جوان اپنی یونٹ31 بلوچ کے اور تقریباً اتنی ہی نفری مغربی پاکستان سے حال ہی میں گئے ہوئے سکاوٹس (پیرا ملٹری) کے جوان تھے۔ ان بارڈر پوسٹوں کی دفاعی ذمہ داری تقریباً 2 میل طویل تھی حالانکہ ایک کمپنی کےلئے اتنے طویل فرنٹ کی حفاظت کرنا نا ممکن ہے لیکن اس وقت حالات ہی ایسے تھے۔ سامنے بھارت کا95 برگیڈ گروپ حملے کی پوزیشن میں تھا جسے بریگیڈئر ہردیو سنگھ کلیر کمان کر رہے تھے۔ عام طور پر ایک مکمل برگیڈ میں تین انفنٹری بٹالین ہوتی ہیں لیکن اس برگیڈ گروپ میں 4 انفنٹری بٹالین کے علاوہ ٹینک اور بھاری توپخانہ کی مکمل رجمنٹس اور تقریباً2 بٹالین کے قریب تربیت یافتہ مکتی باہنی بھی موجود تھے۔ یہ بریگیڈ گروپ بھارت کی کمیونیکیشن زون کور کے ایک ڈویژن کا حصہ تھا جسے جنرل گور بخش سنگھ گِل کمانڈ کر رہے تھے۔
بریگیڈئر کلیر (Kler) دراصل سگنل کور کا آفیسر تھا جسے جنگ میں95 برگیڈ گروپ کی کمان دیدی گئی۔ وہ اپنے آپ کو ہر قیمت پر ایک جنگجو کمانڈر ثابت کرنا چاہتا تھا۔ پاکستانی فوج کی پوسٹوں پر تعینات جوانوں اور افسروں کو ڈرانے کےلئے اور مخالفت ختم کرنے کےلئے اس نے جنگ شروع ہونے سے بھی بہت پہلے جولائی میں ہی گوریلا کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس نے مکتی باہنی اور اپنے جوانوں پر مشتمل گروپ بنائے جنہیں پاکستانی علاقے میں داخل کرکے گوریلا کارروائیوں کا حکم دیا۔ ان گوریلا پارٹیوں نے بہت کوشش کی لیکن کیپٹن ملک کے علاقے پر قبضہ نہ کر سکے۔ 22 اکتوبر اور 14 نومبر کو بٹالین سطح کے دو شدید حملے کئے گئے لیکن کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ کیپٹن ملک اور اسکے جوان اپنی اپنی جگہ ڈٹے رہے۔
بریگیڈئر کلیر جنگ کے شروع میں ہی ناکامی کا دھبہ نہیں لگوانا چاہتا تھا۔ لہٰذا مکتی باہنی اور اپنے گوریلا سپاہیوں کے بار بار حملوں میں ناکامی سے تلملا اُٹھا۔ کیپٹن ملک کو سبق سکھانے کےلئے اس نے اپنی ایک اعلیٰ ترین یونٹ13گارڈز بٹالین کو نومبر کے تیسرے ہفتے کیپٹن ملک کی کمپنی پر حملے کا حکم دیا۔ حملے سے پہلے دو دن کمپنی پر بھاری توپخانہ سے گولوں کی بارش کی گئی۔ دو دن کے مسلسل گولے بھی کیپٹن ملک کے حوصلے نہ توڑ سکے۔ 13گارڈز بٹالین نے جب حملہ کیا تو کیپٹن ملک اور اسکے جوانوں نے جوانمردی سے مقابلہ کیا۔ یہ حملہ تو ناکام ہوگیا لیکن 13گارڈز بٹالین نے کمپنی کے پیچھے والے علاقے پر قبضہ کرکے بلاکنگ پوزیشنیں قائم کر لیں۔ توپخانہ کی مدد نہ ہونے کی وجہ سے 31 بلوچ اس علاقے کو نہ بچا سکی اور اس علاقہ پر قبضہ کی وجہ سے کیپٹن ملک کی پوسٹ اپنی یونٹ سے کٹ گئی۔ سپلائی کا کوئی راستہ نہ بچا۔ ملک اور اسکے جوانوں نے پھر بھی ہمت نہ ہاری، آخری گولی اور آخری جوان تک مقابلے کا فیصلہ کیا۔
3 دسمبر کو 31 بلوچ کے میجر محمد ایوب نے کچھ جوانوں کےساتھ 13گارڈز کی بلاکنگ پوزیشن پر حملہ کیا تاکہ کیپٹن ملک اور اسکے جوانوں کےساتھ رابطہ بحال ہو سکے اور انہیں سپلائی اور راشن دیا جا سکے لیکن میجر ایوب کامیاب نہ ہو سکا۔ اس نے 4 دسمبر کو اس پوسٹ تک رابطہ کرنے کی دوبارہ کوشش کی اور شہید ہو گیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) بھارتیوں کابھی کافی نقصان ہوا۔ اس دوران بریگیڈئر کلیر نے سامنے سے کیپٹن ملک کی کمپنی پر ہر قسم کا دباﺅ جاری رکھا لیکن بہت نقصان اٹھایا۔ ایک پاکستانی کپتان کے محض 70 جوانوں پر ایک بریگیڈ کے مسلسل حملوں کا ناکام ہونا کلیر کی بہت بڑی بے عزتی تھی۔ لہٰذا اس نے فیصلہ کیا کہ مسلسل حملوں کی بجائے اس دستے کو بھوکا پیاسا مارا جائے۔ اس پوسٹ کے ارد گرد کلیر نے اپنی تین بٹالین بٹھا دیں تاکہ انہیں کسی قسم کی سپلائی نہ پہنچ سکے۔ آفرین کہ ملک پھر بھی اپنی جگہ پر ڈٹا رہا۔ خوشونت سنگھ جس نے اس جنگ کی حقیقی رپورٹنگ کی تھی اپنی جنگی ڈائری میں لکھا :
ترجمہ : ”مسلسل ناکامیوں، بڑھتی ہوئی اموات، پورے بریگیڈ میں پست ہمتی اور خوف کی وجہ سے کلیر نے فیصلہ کیا کہ اس کمپنی کو اپنے حصار میں لیکر بھوک پیاس سے مارا جائے تاکہ ان کی مقابلہ کرنے کی ہمت کو توڑ دیا جائے۔“
خوشونت سنگھ مزید طنز کرتے ہوئے لکھتا ہے :
”حیران کن بات یہ ہے کہ پورا بریگیڈ ایک کمپنی سے ڈرا ہوا ہے“
خصوصاً جبکہ کمپنی کے پاس توپخانہ بھی نہ تھا۔ ”کلیر غصے سے پاگل ہوگیا“ اس نے کئی دن کے حصار کے بعد ایک اور بٹالین کو حملے کا حکم دیا۔ یہ بٹالین بغیر زیادہ نقصان کے کمپنی پوزیشن کے نزدیک پہنچ گئی اور حملے کےلئے پوزیشن لی۔ ملک نے دو مارٹر گنوں اور رائفل فائر سے شدید مقابلہ کیا۔
**************************
حملہ آور کمانڈنگ آفیسر کی بدقسمتی کہ اسکے مورچہ کیساتھ والے مورچہ پر ایک مارٹر کا گولہ گرا اور مورچے میں موجود چاروں جوان مر گئے۔ انکے اعضا ہَوا میں اُڑتے ہوئے دکھائی دئیے۔ کیپٹن ملک جو کئی دنوں سے بُرے حالات میں بریگیڈ کا مقابلہ کر رہا تھا اسکی ہمت تو قائم رہی لیکن حملہ آور بھارتی کمانڈنگ آفیسر کی ہمت جواب دے گئی۔ وہ خوف سے کانپنے لگا اور مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ نہ کر سکا۔ کیپٹن ملک کا ساتھ والی پوسٹوں سے اور پیچھے بٹالین سے کئی دنوں سے رابطہ کٹ چکا تھا۔ کئی دنوں سے مسلسل پورے بریگیڈ کی فائرنگ کی زد میں رہا لیکن ہمت نہ ہاری اور اب یہ حالت تھی کہ بریگیڈئر کلیر کی کوئی یونٹ اس کمپنی پر حملے کیلئے تیار نہ تھی۔ پورے بریگیڈ میں اس قدر خوف پھیل گیا کہ کوئی آگے جانے کو تیار نہ تھا۔
جب بریگیڈئر کلیر کی فوج خوف سے آگے نہ بڑھ سکی تو اس نے یہ یونٹ واپس بلا لی اور بھارتی ائر فورس کی مدد مانگی۔ بھارتی مگ 21 طیاروں نے اس معمولی سی پوسٹ پر سارا دن صبح سے شام تک اس قدر بمباری کی کہ پورا علاقہ پاوڈر بن گیا لیکن پھر بھی آگے کوئی نہ آ سکا۔ جب ڈویژن کمانڈر جنرل گور بخش سنگھ نے بریگیڈ کی یہ بے بسی دیکھی تو اس نے خود اس علاقے کی کمان سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ جنرل بخش نے مکتی باہنی کے ایک آدمی کے ہاتھ کیپٹن ملک کو ایک لیٹر بھیجا ”تم جو کچھ بھی کرو ہم یہ پوسٹ ہر قیمت پر ختم کرینگے۔ لہٰذا مزید اموات سے بچنے کیلئے مقابلہ ختم کرو“ لیکن اسکے جواب میں ملک نے پھر فائرنگ شروع کر دی۔ جنرل بخش کو بھی بہت غصہ آیا اس نے شدید بمباری کا دوبارہ حکم دیا جو سارا دن جاری رہی۔ شام کے وقت ایک اور لیٹر بھیجا گیا۔ حیران کن بات کہ ملک تاحال زندہ تھا اور اسکا حوصلہ اسی طرح جوان۔ اس خط کا جواب بھی کیپٹن ملک نے شدید فائرنگ کرکے دیا۔
جب بھارتی بریگیڈ زچ ہوگیا اور جنرل بے بس تو پیچھے پاکستانی ہیڈ کوارٹر سے رابطہ کیا گیا۔ اس وقت تک پاکستانی ہیڈ کوارٹر کی ہمت بھی جواب دے چکی تھی۔ چونکہ اور کوئی رابطہ نہ تھا لہٰذا شام کو ریڈیو پر کیپٹن احسن ملک کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا گیا۔ اس حکم پر ملک اور اسکے جوانوں نے کئی دن کے بھوکے پیاسے، بھیگی آنکھوں سے سفید جھنڈا لہرایا اور شام سات بجے اپنے آپکو بھارتی فوج کے حوالے کر دیا۔ #PAKSOLDIER_HAFEEZ
پاکستان سے بنگلادیش
پاکستان ۔۔مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے نام سے معرض وجود میں آئے ۔۔
میں مختصر لکھوں گا ۔۔۔
سب سے پہلا تنازعہ قومی زبان پر اٹھا
جب قائد اعظم محمد علی جناح ڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب فرما رہے تھے ۔۔شیخ مجیب الرحمٰن نامی طلب علم نے احتجاج کیا بلکہ دوران تقریر قائداعظم محمد علی جناح کو بددیانت اور غاصب کہا ۔۔اس پر قائداعظم نے فرمایا تھا اس پر نظر رکھو ۔۔
بھارت وہاں اپنے ایجنٹوں کو خرید کر مغربی پاکستان اور مغربی فوجی کمان کے خلاف معاذ کا آغاز کر چکا تھا ۔۔مختصر ۔۔1971 ۔۔کے المیہ سے قبل مکتی باہنی قائم ھوچکی تھی اس کا ہیڈ کوارٹر کلکتہ میں قائم ھوچکا تھا ۔۔الیکشن ریگنگ کو بہانہ بنایا گیا ۔۔اس سے قبل جب مجیب الرحمٰن نے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آرہی ھے ۔۔
کراچی میں ۔۔شیخ مجیب کی گرفتاری اور رہائی میں پاکستانی سیاستدانوں کا اہم رول تھا ۔۔جبکہ پاکستانی افواج اسکی مخالف تھی کہ اس سانپ کو رہا کیا جائے ۔۔جنگ میں مغربی پاکستان کی افواج کو ۔۔مشرقی پاکستان کی افواج ۔۔مکتی باہنی ۔بنگالی عوام ۔۔اور بھارتی افواج سے مقابلہ تھا ۔۔ایئر فورس میں اکثریت بنگالی ھونے کی وجہ سے ۔ایئر فورس پہلے ہی سرینڈر کر چکی تھی جنگی ۔۔سامان اور کھانے پینے کی رسد منقطع ھو چکی تھی چونکہ بھارت نے ھوائی ۔۔سمندری ۔۔اور زمینی راستے بند کر دیئے تھے ۔۔پھر بھی افواج پاکستان نے لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔اور ہتھیار ڈالنے کا اعلان مغربی پاکستان کی سیاسی کمان سے ھوا ۔۔ان حالات میں پاکستانی افواج جو کہ مشرقی پاکستان میں موجود تھیں ان کے پاس کیا چوائس تھی ۔۔اگر وہ لڑتے ھوئے مارے جاتے تب بھی مشرقی پاکستان ۔۔کو بنگلا دیش بننے سے روک نہیں سکتے تھے۔۔آج ھم لوگ بڑی آسانی سے تنقید کر لیتے ھیں ۔لیکن یہ ضرور یاد رکھیں ۔۔اس وقت نہ تو جدید ٹیکنالوجی تھی ۔۔نہ تو کسی طرف سے ہتھیاروں کی سپلائی تھی اور نہ ھی خوراک کی سپلائی تھی اور نہ ہی کوئی کیمنیکیشن کی سہولت تھی ۔۔ان حالات میں ۔۔سروائیول کرنے پر پاکستان فوج کو دادا دینے کے بجائے تنقید کرنا میرے خیال سے سراسر نا انصافی ھے۔
##PAKSOLDIER_HAFEEZ
میں مختصر لکھوں گا ۔۔۔
سب سے پہلا تنازعہ قومی زبان پر اٹھا
جب قائد اعظم محمد علی جناح ڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب فرما رہے تھے ۔۔شیخ مجیب الرحمٰن نامی طلب علم نے احتجاج کیا بلکہ دوران تقریر قائداعظم محمد علی جناح کو بددیانت اور غاصب کہا ۔۔اس پر قائداعظم نے فرمایا تھا اس پر نظر رکھو ۔۔
بھارت وہاں اپنے ایجنٹوں کو خرید کر مغربی پاکستان اور مغربی فوجی کمان کے خلاف معاذ کا آغاز کر چکا تھا ۔۔مختصر ۔۔1971 ۔۔کے المیہ سے قبل مکتی باہنی قائم ھوچکی تھی اس کا ہیڈ کوارٹر کلکتہ میں قائم ھوچکا تھا ۔۔الیکشن ریگنگ کو بہانہ بنایا گیا ۔۔اس سے قبل جب مجیب الرحمٰن نے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آرہی ھے ۔۔
کراچی میں ۔۔شیخ مجیب کی گرفتاری اور رہائی میں پاکستانی سیاستدانوں کا اہم رول تھا ۔۔جبکہ پاکستانی افواج اسکی مخالف تھی کہ اس سانپ کو رہا کیا جائے ۔۔جنگ میں مغربی پاکستان کی افواج کو ۔۔مشرقی پاکستان کی افواج ۔۔مکتی باہنی ۔بنگالی عوام ۔۔اور بھارتی افواج سے مقابلہ تھا ۔۔ایئر فورس میں اکثریت بنگالی ھونے کی وجہ سے ۔ایئر فورس پہلے ہی سرینڈر کر چکی تھی جنگی ۔۔سامان اور کھانے پینے کی رسد منقطع ھو چکی تھی چونکہ بھارت نے ھوائی ۔۔سمندری ۔۔اور زمینی راستے بند کر دیئے تھے ۔۔پھر بھی افواج پاکستان نے لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔اور ہتھیار ڈالنے کا اعلان مغربی پاکستان کی سیاسی کمان سے ھوا ۔۔ان حالات میں پاکستانی افواج جو کہ مشرقی پاکستان میں موجود تھیں ان کے پاس کیا چوائس تھی ۔۔اگر وہ لڑتے ھوئے مارے جاتے تب بھی مشرقی پاکستان ۔۔کو بنگلا دیش بننے سے روک نہیں سکتے تھے۔۔آج ھم لوگ بڑی آسانی سے تنقید کر لیتے ھیں ۔لیکن یہ ضرور یاد رکھیں ۔۔اس وقت نہ تو جدید ٹیکنالوجی تھی ۔۔نہ تو کسی طرف سے ہتھیاروں کی سپلائی تھی اور نہ ھی خوراک کی سپلائی تھی اور نہ ہی کوئی کیمنیکیشن کی سہولت تھی ۔۔ان حالات میں ۔۔سروائیول کرنے پر پاکستان فوج کو دادا دینے کے بجائے تنقید کرنا میرے خیال سے سراسر نا انصافی ھے۔
##PAKSOLDIER_HAFEEZ
Sunday, November 18, 2018
پاکستان کا نیوٹرون بم
پاکستان کا نیوٹرون بم
نصر میزائل ایٹم بم کے ایک قسم کے نیوٹرون بم ، دشمن پر برساتا ہے نیوٹرون بم سے جس جگہ حملہ کیا جاتا ہے وہ جگہ حملہ کے بعد استعمال کے قابل ہوتی ہے کیوں کہ نیوٹرون بم سے تابکاری نہیں پھیلتی جبکہ یورونیم یہ پلوٹونیم سے بنے ایٹم بم حملے کے بعد وہ جگہ تابکاری پھلنے کی وجہ سے دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتی۔ نصر میزائل کو دنیا کا کوئی ڈفینس سسٹم روک نہیں سکتا
Saturday, November 17, 2018
NSFC میزائل
*یہ NMR نیول میزائل رجمنٹ نے NSFC نیول اسٹریٹیجک فورس کمانڈ کے تحت تیار کیا گیا میزائل ہے جو پاکستان نیوی کے ZWS ضرب ویپن سسٹم کا تیسرا میزائل ہے جو زمین سے سمندر میں موجود دشمن کی شپ کو نشانہ بناتا ہے ۔
مثال کے طور پر اگر دشمن کی کوئی شپ پاکستان کی سرحدی حدود پر قریب قریب موجود ہوں تو یہ خود کار طریقے سے فائر کرکے اس کو تباھ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔
پاکستان نیوی نے اس کا اپریل 2018 میں کامیاب تجربہ کیا تھا ۔ اور اس کو MLV مطلب میزائل لاؤنچ وہیکل سے فائر کرکے بھی چیک کیا جا چکا ہے.
Subscribe to:
Posts (Atom)